حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 426
: ایسی بادشاہتیں ایسی گزر چکی ہیں کہ ان کا اب کوئی نام بھی نہیں جانتا سب باتوں کا علم اﷲ ہی کو ہے۔یہ جو مقررّ کرتے ہیں کہ دنیا سات ہزار برس سے ہے۔یا دو ارب سے یا ستّرہ صفر اس سے پہلے بڑھا کر اپنی قدامت دکھاتے ہیں۔خدا کی ابدیت کے سامنے یہ اعداد کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے! اسی لئے ہماری کتاب نے کوئی مدّت مقرّر نہیں کی !! فرعون نے حضرت موسٰیؑ سے پوچھا کہ مَابَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی (طٰہٰ:۵۲) انہوں نے صاف سنا دیا۔عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ (طٰہٰ:۵۳) مجھے کیا معلوم۔خدا کو سب علم ہے۔مَیں بھی اس شخص کی نسل سے ہوں۔جس نے کہا۔اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ مِنَ الْاَشْقِیَآئب فَامْحُ اِسْمِیْ مِنَ الْاَشْقِیَآئِ وَ اکْتُبْنِیْ فِی السُّعَدَآئِ۔مَیں ایک دفعہ سخت ابتلاء میں تھا۔ایک میرے مجذوب دوست نے مجھے کہا وَ اللّٰہُ غالِبُ عَلٓیٰ اَمْرِہٖ (یوسف:۲۲) وہ تو اپنے حکم پر بھی غالب ہے۔جس کو سنتے ہی وہ سب غم کافور ہو گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) : اَصْلُ الْاَشْیَآئِ (تشحیذالاذھان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۱) ۴۲۔ : عربی زبان میں حاکم محکوم۔امراء۔عرباء۔اغنیاء فقراء کو کہتے ہیں۔یہ گویا نشان بتایا ہے۔کہ تم لوگوں نے مذہبی جنگ شروع کر دی۔اچھا اب دیکھ لینا کہ ہم تمہارے اس ملک میں آرہے ہیں۔تمہارے امراء اور عرباء کو تعلیم قرآن میں داخل کر کے تمہاری تعداد گھٹا رہے ہیں۔جو لوگ یہ معنے کرتے ہیں کہ دائرہ کے محیط کو ہم گھٹا رہے ہیں۔یہ غیر ضروری باتیں ہیں۔عوام النّاس ایسی باتوں کو کیا سمجھتے ہیں۔