حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 420
۲۸۔ : وہ ہلاکت کا نشان مانگتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۲۹۔ : اس کے ساتھ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کا ذکر فرمایا۔کیونکہ کامل ایمان وہی ہے جس کے ثمرات اعمالِ صالحہ کی صورت میں ظاہر ہوں۔ذِکْرُ: اﷲ کو یاد کرنا۔یہ تین موقعہ پر آیا ہے۔۱۔بَاسَآء۔جب بھوک ہو اور افلاس۔۲۔ضَرَّآئِ۔جب بیماری ہو۔بیماریاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ظاہر کی۔جیسے خارش۔جذام۔جنون باطنی۔جیسے نامردی۔سُرعتِ انزال۔۳۔حِیْنَ الْبِاّسِ۔جب مقدمہ ہو۔پھر اس کے مقابل (غناء) آسائش۔فارغ البالی ( صحت) ۳۔تندرستی۔جوانی ۴۔حِیْنَ الْاَمْنِ۔جب کوئی مصیبت نہ ہو۔یہ چھ حالتیں انسان کی ہیں۔ان حالتوں میں اﷲ یاد رہے۔یعنی تنگی کے وقت معصیت نہ کر بیٹھے نافرمانی سے اپنے تئیں بچاوے۔اور فراخی کے وقت شکر کرے۔صوفیوں میں ایک بحث ہے کہ غنی شاکر اچھا یا فقیر صابر۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی ؒ کے سامنے بھی یہ بحث پیش ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک فقیر شاکر اچھا ہے۔اس سے اوپر ایک درجہ ہے۔اس میں صحت۔غریبی۔غِنا کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔بلکہ اس درجے والا ہر حالت میں اﷲ کا شکر اور اسکی رضا پر شرح صدر سے راضی رہتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء)