حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 419
میرے باپ علمِ حدیث میں ہرگز قابلِ سند نہیں۔لوگوں نے کہا کہ تُم نے باپ کا خیال نہ کیا۔فرمایا کہ مجھ کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا وصل باپ کے وصل سے زیادہ عزیز ہے۔ان ائمہ کے بعد ماں باپ اور ان کے رشتہ دار۔بیوی اور اس کے رشتہ دار یہ سب اس قابل ہیں کہ ان کا بہت لحاظ رکھے۔ان سے تعلّق بڑھائے لیکن اﷲ اور اس کے رسولؐ کے مقابلہ میں یہ ہیچ ہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس درخت سے تم سایہ کا فائدہ اٹھاتے ہو۔اس کے نیچے پاخانہ نہ پھرو۔: اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حساب کے وقت بدیاں نہ بڑھ جاویں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۲۴۔ …: ہمیشہ اقامت کی جنّتیں۔ان میں داخل ہوں گے۔اور انکے ساتھ ان کے صالح باپ اور بیبیاں اور اولاد بھی۔(نورالدّین صفحہ۴۹) ۲۶۔ : لعنت اﷲ کی رحمت سے دُوری ہے۔جب اس سے دُوری ہوتی ہے تو سُکھوں سے بھی دُوری ہو جاتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۲۷۔ : تھوڑی چیز اور وہ بھی جانے والی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء)