حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 418
…: نصیحت تو وہی پکڑیں جو عقل والے ہیں۔وہی جو الہٰی معاہدوں کا پورا خیال رکھتے ہیں اور جس کسی سے مستحکم وعدے کئے۔ان کو نہیں توڑتے۔جن سے ملاپ کرنا چاہیئے ان سے ملاپ کرتے۔اﷲ کی نافرمانی کا خوف رکھتے اور بُرے کاموں کے بدلہ سے ڈرتے۔وہی اﷲ تعالیٰ کی رضامندی کے طالب ہو کر بردباری کرتے ہیں اور نمازوں کو درست رکھتے اور کچھ اﷲ کا دیا۔ظاہری اور باطنی طور پر خرچ کر دیتے ہیں۔اور خاص بدی کا مقابلہ خاص نیکی سے کیا کرتے ہیں۔انہیں کا انجامِ کار آرام ہو گا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ احمدیہ صفحہ ۲۷۵) : نیکی پر صبر تو اس پر دوام ہے اور بدیوں پر صبر کہ ان سے بچار ہے۔: جن لوگوں کے ساتھ خدا نے ملنے کا حکم دیا ہے ان سے فورًا مل جاتے ہیں۔جب اﷲ اکبر کی آواز کان میں آتی ہے۔اس وقت کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی۔جس کا جوڑ مَیں خدا کے مقابلہ میں ٹھہراؤں۔کوئی پیاری سے پیاری چیز بھی مجھ کو اﷲ اکبر سے نہیں ہٹا سکتی۔یعنی کوئی اﷲ کے جوڑ کا نظر نہیں آتا۔اگر کوی شخص ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر، ہماری شریعت پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو ہم کو چاہیئے کہ کسی رشتہ دار تک کی پرواہ نہ کریں۔خوب اس کا مقابلہ کریں۔اسی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد صحابہ کرام۔تابعین۔تبع تا بعین۔ائمہ حدیث۔ائمہ تصوّف ائمہ فقہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی تعلق ہونا چاہیئے۔علی ابن مدینی نے اسماء الرّجال ایک کتاب لکھی ہے اس کے باپ نہایت عابد زاہد تھے۔صاف لکھ دیا کہ