حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 40
لوگوں کو اپنے مکالمات سے بھی آگاہ کیا کہ یہ رسول اﷲ اور راست باز ہے۔جیسے فرمایا۔اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّیْنَ اَنْ اٰمِنُوْ اِبْی وَبِدَسُوْلِیْ۔(الحکم ۲۹؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۹) وَ…الخ : اس آیت کا مطلب یہ کہ سُکھوں اور دُکھوں کا دینے والا حقیقت میں تو اﷲ تعالیٰ ہے۔اس لئے کہ اصل خالق اور پیدا کرنے والا اسبابِ رنج و راحت کا وہی ہے۔اور یہی نہایت سچّی بات ہے کہ سُکھ سب اﷲ تعالیٰ ہی کی عنایت سے ملتے ہیں اور دُکھ تمہارے اپنے ہی سبب سے تم پر آتے ہیں…اس قدر بھی اس آیت سے نکل سکتا ہے کہ سُکھ ابتداء ً بھی جنابِ الہٰی سے آ سکتے ہیں… کیونکہ اسکی صفت رحمن ہے۔البتہ یہ نئی بت ہے اور سچّا اور واقعی سائنس ہے جو اس آیت سے نکلتی ہے۔تمام سُکھ ابتداء ً ہی جنابِ الہٰی کی طرف سے آتے ہیں۔حقیقی چشمہ ان کا وہی اور خلق اشیاء و اسباب اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے مگر یہ سچّا اور روحانی علم بجائے خود ایک مستقل مضمون چاہتا ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۲) ۸۱۔ حضرت نبی کریمؐ تمام فضائلِ انسانی کے خاتَم ہیں۔زمانہ کے اعتبار سے بھی خاتَم ہیں کہ آپؐ کی نبوّت کا دامن قیامت تک پھَیلا ہے۔دُنیا میں مذاہب کے تین حصّے ہیں۔عبرانیوں کا مذہب۔ایرانیوں کا مذہب۔تیسرا مُشرک۔جن کے پاس کوئی کتاب نہیں… نبیٔ کریمؐ اور ان کے پیروؤں کے ہاتھوں میںتینوں کے صدر مقام فتح ہوئے۔مکّہ معظّمہ پر کسی نے فتح نہ پائی تھی۔حتٰی کہ سکندر ایسا فاتح بھی محروم رہا۔میرا مذہب ہے کہ آپؐ خاتم کمالات ِ انسانی ہیں…(المائدہ:۴) دنیا میں تمام مذاہب کی کتابیں ہیں کسی میں دعوٰی کے ساتھ دلیل نہیں۔پس خاتم الکتاب بھی انہی کی کتاب ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) جس نے رسولؐ کا کہا مانا اس نے بیشک اﷲ تعالیٰ کا ہی کہا مانا اور جس نے اطاعت سے مُنہ پھیرا تو ہم نے تجھ کو ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔یہ آجکل کا ایک مسئلہ ہے جو کہ لوگوں کی جہالت اور شوخی سے پیدا ہو گیا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حدیثوں کے ماننے اور ان پر عملدر آمد کی ضرورت نہیں ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اسکا جواب اس آیت میں دیا ہے کہ رسولؐ