حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 409 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 409

۱۰۳۔  : ــــــــــتَبَاء---کہتے ہیں عظیم الشان بات کی خبر۔: یعنی یہ ایک پیشگوئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) : مکّہ والوں کو بتایا کہ تم بھی ایسا ہی کرو گے۔اور آخر میں تم پر فتح پاؤں گا۔: مکّہ والوں کے پاس۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۱) ۱۰۶،۱۰۷۔   حضرت یوسف علیہ السلام کے قصّہ میں بہت بڑی نصیحت ہے۔چھوٹے بچّوں کو بھی حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیئے۔انبیاء علیہھم السلام کسی کی حقارت بھی کرتے ہیں تو نام نہیں لیتے۔دیکھو حضرت یوسفؑ کی حقارت کرنے والوں نے کتنے برے بڑے مصائب دیکھے۔دوسری نصیحت یہ ہے۔کہ جو کوئی اﷲ کی طرف جھُکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کو پسند آتا ہے۔چاہے وہ جھوٹا بچّہ ہی کیوں نہ ہو۔اس من میں مکّہ والوں کو بتایا کہ تم نبی کریمؐ کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم مبی مبعوث ہونے کی حیثیت سے بچّہ ہی تھے۔مگر ایک اولوالعزم خاتِم کمالاتِ رسالت تھے۔بعض وقت سخت لفظوں کا بُرا خمیازہ اٹھانا پرتا ہے۔اِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (یوسف:۶۴) : بہت لوگ بات ماننے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو انکار کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء)