حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 406
اﷲ تعالیٰ کی رضا مندی کے کاموں پر مضبوط رہے۔تقوٰی کے معنے ہیں ایمان اﷲ پر۔ملائکہ پر۔انبیاء پر۔کتب پر اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرے۔مسکین و تییم و اقارب کی خبر گیری کرے۔رنج و راحت۔عسر و یسر میں صابر رہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۹۳۔ : یعنی میں تمہیں کبھی ملامت نہیں کروں گا۔نہ کبھی یاد دلاؤں گا دیکھئے حضرت یوسفؑ نے تو کہہ دیا۔مگر حضرت یعقوبؑ نے سَوْفَ فرمایا۔یہ اس لئے کہ یعقوبؑ کی معرفت بڑھی ہوئی تھی۔؎ آنکہ عارف تراست ترساں تر نبی اس وقت دعا مانگتا ہے جب مغفرت کیلئے مامور ہو۔عمائد مکّہ کو بھیلَ لا تَثّرِیْبَ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مگر نہ کہا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۹۴۔ : حضرت یوسفؑ کے تمام کام قمیص ہی سے متعلق رہے۔باپ کے پاس بھی بھائی قمیص ہی پُرخون لے کر گئے تھی کہ بھیڑیا کھا گیا۔پھر مصر میں بھی جب ایک عورت نیاتہام لگایا تو قمیص ہی سے برّیت ہوئی۔اب جب ان کی خوشحالی کا وقت آیا تو اب بھی قمیص ہی بھیجا۔باریک بین لوگ اس قسم کی باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔: میرے باپ کے آگے رکھ دو۔: وہ یقین کر لے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء)