حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 393
۳۴۔ : سجن کے معنے حبس مراد لے لیتے ہیں۔قیدخانہ یا مَجْسَ : حضرت یوسفؑ نے تو کہا مجھے قید پسند ہے۔مگر ہمارے نبی کریمؐ نے کبھی ایسا لفظ نہیں بولا۔آپؐ ہمیشہ عفو ہی مانگتے رہے اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔انسان کو نہیں چاہیئے کہ اپنے لئے مصیبت مانگے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۳۷۔ دَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ : ؎ ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیرِ آن گنجِ کرم بِنْہادہ است حضرت موسٰیؑ کو ایک طرف تو بادشاہ کے گھر میں پرورش کر دیا۔تاکہ دربارِ شاہی کو دیکھ بھال لے دوسری طرف غریب گھر میں رکھا تا زندگی کے اس حصّہ کے عجائبات کو بھی دیکھ کر امیر و غریب کی اصلاح کر سکے۔اسی طرح حضرت یوسفؑ کو ایک طرف باپ سے الگ کیا پھر قیدخانہ میں ڈال دیا۔اور دوسری طرف مصر کے بادشاہ کا مقرّب بنایا۔حضرت مجدد۱؎ گوالیار کے قلعہ میں قید ہوئے تو قیدخانہ سے ایک شخص کو خط لکھتے ہیں۔ہم کو قرآن شریف یاد کرنے کیلئے موقعہ نہیں ملتا تھا۔اب قرآن شریف کی یاد کیلئے خوب موقعہ ملے گا۔میں تو ان کا بہت معتقد ہوں۔جو ان کے معتقد نہیں۔وہ بھی دیکھیں گے کہ کس دل سے یہ خط لکھا گیا ہے۔کبھی کبھی مجھے یہ خیال ٓآتا ہے کہ ہمارے نبی کریمؐ بھی ہجرت کے تین دن غار میں رہے آپؐ نے اس میں اپنے رفیقِ صدیق کے ساتھ کیا کیا باتیں کیں اور دعائیں کی ہوںگی۔: اﷲ تعالیٰ نے رؤیا کی عظمت کے اظہار کیلئے تین رؤیا کا ۱؎ حضرت سیّد احمد سرہندی مجدّ الف ثانی۔مرتّب ذکر اس سورہ میں کیا ہے۔ا۔کافر کا۔فرعون ب۔فاسق کا قیدی ج۔مومن کا رؤیا۔یوسفؑ۔دیکھئے سب کے لئے۔ ہی آیا ہے۔یہ بیان نہیں کیا کہ ہم نے خواب میں دیکھا یا کشف میں دیکھا یا یقظہ میں پس نبی کریمؐ کی احادیث میں کیونکر خواہ مخواہ مشکلات ڈالے جاتے ہیں۔: خمر کے معنے انگور۔صحابہؓ نے اس لُغت کو اچھی طرح سے بیان کیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء)