حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 388
: ہم ایک بڑی جماعت ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے مقابلہ میں ایسا ہی کہا گیا۔مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٌ (زخرف:۳۲) : کاٹنے والی محبّت۔یوسفؑ کے ساتھ ایسی محبّت ہے جو ہم سے قطعِ محبّت کراتی ہے۔: بعض لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کہ یہ بدی ہم کر لیں۔پھر نیک بن جائیں گے۔ایسے آدمیوں کو نیکیوں کی توفیق نہیں حاصل ہوتی۔بعد میں توبہ کر لینے کی نیت کے ساتھ بدی کی طرف جھکنا کبھی اعملِ صالح کی تو فیق نہیں دیتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) : جیسے اس قوم میں نبی کریمؐ خدا کے محبوب بن گئے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۹) ۱۱۔ : نبی کریمؐ کے دشمن اس سے زیادہ سخت تھے۔کیونکہ انہوں نے قتل کا فیصلہ کر دیا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۹) :قَعْرُبِئْرٍ۔وہ کنواں اس کو غائب کر دے۔وہ ایک خاص کنوں تھا اور اسی کی طرف اشارہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۱۲،۱۳۔