حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 37
کہ انہوں نے کوئی بَدی کی تھی اور وہ ہلاک ہوئے۔انجام ہمیشہ متّقی کا ہی اچھا ہوا کرتا ہے۔اور ہر ایک خَیر کا وارث بھی متّقی ہی ہوا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔(الحکم ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۱) ۷۹،۸۰۔ اﷲ جَلَّ شَانَہٗمحض فضل سے کسی وقت صبر کا حکم دیتا ہے کسی وقت بدلہ لینے کا۔صبر کے دن مقابلہ کے دن نہیں ہوتے۔ان اوقات کو انبیاء خوب پہچانتے ہیں یہ انبیاء کے ناشناس لوگوں کی باتیں ہیں کہ جب تک مکّہ میں تھوڑے آدمی تھے۔صبر کا حکم تھا۔قلّت و کثرت مومن کیلئے کچھ بات نہیں۔انبیاء کو جب اﷲ حکم دیتا ہے صبر کرتے ہیں۔جب مقابلہ کا حکم دیتا ہے۔مقابلہ۔وہ نہ ہتھیاروں کی پرواہ کرتے ہیں نہ آدمیوں کی۔کیا موسیٰ اور نوح علیھم السّلام نے تلواروں سے کام لیا تھا… دیکھا وہ پانی جو مخالف کے غرق کا مُوجب ہوا۔آپ کی نجات کا ذریعہ بنا۔پھر دیکھو (التوبہ:۲۵) میں کثرت کو عُجب کا مُوجب ٹھہرایا ہے۔معلوم ہوتا ہے احمق مقابلہ صرف تلوار کا سمجھتے ہیں جبھی تو جتّھے کے منتظر ہوتے ہیں۔