حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 383
اس دنیا میں اضداد کا مقابلہ ہوتا رہا اور یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ بھی کسی مدّت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔کیمسٹری کی گواہی ذرّاتِ عالم کی نسبت اس وقت چھوڑ دو۔انسانی گروہ پر نظر کرو۔سعید کے ساتھ شقی یا سریشٹ (اچھا ) کے ساتھ وَیْسُوْ (بُرا) کب سے مقابلہ ہو رہا ہے۔مومن و کافر کا جھگڑا اور عالم وجاہل کا تنازعہ کوئی پہلی قسم سے جُدا فساد نہیں۔یہ الفاظ سعید اور شقی۔بھلے اور بُرے یا سریشت اور وَیْسُوْ کے ہی عنوان ہیں۔اوروں کا مخاصمہ وہی اضداد کی باہمی جنگ ہے۔یہ باہمی حملہ بڑے بڑے نتائج کا موجب اور خدا ترس پر سمجھ والوں کے واسطے انواع و اقسام فوائد کا باعث ہے ان منافع کا تذکرہ جو اس جدال و قتال سے اس حملہ کے مجاہدین اور شہداء کے حق میں پیدا ہوتے ہیں اس رسالہ میں ناموزوں ہے۔مگر قدرت کے کارخانہ میں جب اختلاف موجود ہے پھر ایسی قوّت اور طاقت کے ساتھ ہو رہا ہے کہ مخلوق میں کوئی بھی نہیں گزرا اور نہ ہے جس نے اختلاف کو مٹایا ہو بلکہ یہ سچا الہام وَ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رّنحِمَ رَبُّکَ اس جنگ کے قیام کی خبر دیتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۰۱) دیکھو اس وقت تم بیٹھے ہو۔سب کی آوازوں میں اختلاف۔لباسوں میں اختلاف۔مکانوں میں اختلاف صحبتوں میں اختلاف۔مذاقوں میں اختلاف۔غرض اختلاف ایک فطری امر ہے۔اب خدا ہی کا فضل ہے کہ تم ایک وحدت کے نیچے ا گئے۔میں کبھی گھبرایا نہیں کرتا کہ فلاں شخص کیوں ہمارا خیال نہیں۔کیونکہ میرے مولیٰ کا ارشاد ہے وَ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رّنحِمَ رَبُّکَ۔پس جس پر فضل ہوا۔وہ اختلاف سے نکل کر وحدتِ ارادی کے نیچے ا جائے گا۔(الفضل ۹؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) : رحم کے واسطے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا میں اختلاف مذاہب کا ہمیشہ رہے گا۔: یہ بھی خدا تعالیٰ کی ایک بات ہے اور پوری ہو گی کہ جنّ و ناس کا ایک گروہ داخل جہنم ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء)