حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 376

۱۰۹۔  : جب تک (وہ) آسمان و زمین قائم ہیں۔یعنی مومن بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔عربی زبان میں الفؔ لامؔ خصوصیت کا نشان ہے۔اردو فارسی میں معرفہ اور نکرہ میں امتیاز کرنے کیلئے کوئی نشان نہیں۔پس میںسَمٰوٰت اورارض کے اوّل میں الف لام تخصیص کا اظہار کرتا ہے اور مقصود اس تخصیص سے وہ خاص آسمان و زمین مراد ہیں جو اس عالمِ آخرت کے مناسب اور اس مقام کی صورتِ طبعی کے اقتضاء کے موافق ہوں گے۔غرض بہشت اور دوزخ میں خاص آسمان اور زمینیں ہوں گی اور موجودہ آسمان و زمین اپنی حالت سے بدل جائیں گے۔نافہم عیسائی اپنی کتب مسلّمہ سے بے خبر اسی عدم امتیاز کے باعث ایسی فاحش غلطیوں میں پڑتے اور بیابانِ ضلالت میں ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔اناجیل کا بھی یہی منشاء ہے۔جہاں لکھا ہے۔’’ اور کہ تم خدا کے اُس دن کے آتے کے منتظر ہو جس میں آسمان جل کر گداز ہو جاویں گے۔پر ہم نئے آسمان اور نئی زمین کی جن میں راست بازی بستی ہے اُس کے وعدے کے موافق انتظار کرتے ہیں۔‘‘ (۲پطرس ۳ باب) (فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع ثانی صفحہ ۱۴۶) : کہاں کا آسمان و زمین؟ وہاں (جنت) کا۔: اس کی بابت بہت بحث ہے کہ  سے کیا مرادد ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو آسائش پہنچ جاتی ہے اس کا استثناء مراد ہے۔بعض نے اس خاص کو اور وسیع کیا ہے کہ قبر سے حشر تک۔بعض نے اور وسیع کیا ہے اور کہا ہے حشر کے فیصلہ تک۔بعض نے کہا ہے کہ آخر دوزخ سے سب نکالے جاویں گے۔میرے نزدیک اس سے اظہارِ عظمت و جبروت مراد ہے۔کہ جو کچھ ہوتا ہے۔مشیتِ الہٰی کے ماتحت ہوتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۱۱۰۔