حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 365
والے نہ نہ مانا۔تو اس کا نتیجہ بھُگتا۔مکّہ سے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم چلے آئے۔معمولی بات تھی مگر اس کا نتیجہ دیکھنے والوں نے دیکھا۔حصرت علیؓ بھی مجبور ہو کر مدینہ سے چلے آئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ پھر مدینہ دارالخلافہ نہ بنا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ: یعنی میرا بیٹا میری بی بی کی طرف سے۔اور قرآن تو صاف کہتا ہے کہ یہ لڑکا تیرے اہل کا بیٹا ہی نہیں۔جہاں کہتا ہے۔اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ۔اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ۔(فصل الخطاب جلد اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۱۵۱) دعا میں مسئول کی تعریف ہوتی ہے اور سائل کا حال اور پھر عرضِ مدعا۔چنانچہ نوحؑ دعا فرماتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ کو غفور رحیم کہہ کر اپنے مسئول کی تعریف کی ہے اور عرض کر کے اپنی کمزوری کا اقرار کیا ہے۔اور پھر دعوٰی نہیں کیا کہ مَیں ایسے سوالات نہیں کروں گا بلکہ اس کیلئے بھی جناب الہٰی سے استعانت کی ہے۔یہ انبیاء کا غایت درجہ ادب ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۱ صفحہ ۳۶) ۴۹۔ : سلامتی ہماری طرف سے۔اس تعوُّذ کا نتیجہ ہے۔یہ تو بدلہ کا بدلہ ہوا۔اب برکات تجھ پر اور تیرے ساتھیوں پر ہوں گے۔یہ اس ادب کا انعام ہے۔ایک صوفی نے عجیب نکتہ لکھا ہے کہ ساحرانِ فرعون کے ادب کا نتیجہ تھا کہ انہیں ایمان لانے کی توفیق ہوئی۔انہوں نے جناب موسیؑ کا ادب ککیا اور کہا اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ(اعراف:۱۱۶)میں نے بھی اس سے ایک نکتہ نکالا ہے وہ یہ کہ مباحثہ میں ہمیشہ پہلے دشمن کو اعتراض کرنے دے پھر اس کا جواب دے۔مومن اسی طریق سے فتح پاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍ دسمبر ۱۹۰۹ء) ۵۰۔