حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 359 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 359

بہشت تھا۔پھر مکّہ کی فتح اور دوسری فتوحات مثل عراق۔عجم۔شام۔مصر اور وہ ممالک جن کی نسبت موسٰیؑ نے اپنی قوم کو وعدہ دیا کہ وہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہتی ہیں۔ایک بہشت قرآن اور اس کے حجج قاطعہ و براہین ساطعہ ہیں جس کے ذریعے تمام مذاہب پر فتح پا کر مظفر و منصور ہو کر شاد کام رہتا ہے۔ایک دفعہ میں سفر کو گیا۔ایک مولوی سے ملاقات ہوئی۔مجھ سے پوچھا مرزا صاحب کیا لکھ رہے ہیں میں نے کہا علامات المقربین لکھتے ہیں۔اس میں ایک بات لکھی ہے۔کہ ۔(الانفطار:۱۴۔۱۵) مومن اسی دنیا میں نعمتیں پاتا ہے اور فاجر دوزخ میں ہو جایا کرتا ہے۔جل جل کر کباب ہوتا رہتا ہے۔مولوی بولا یہ بات تو ٹھیک نہیں۔دیکھئے ہم نان شبیہ کو ترستے ہیں اور یہ کافر گڑ گڑ بگھیاں گزارتے۔ہمارے سینے پر مونگ دَلتے ہیں۔مَیں تو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہوں۔پاس ایک بذلہ سنج بیٹھے تھے۔وہ بولے مولوی صاحب کا رنگ بھی تو اسی جلنے کی وجہ سے سیاہ ہو گیاہے۔مولوی صاحب بولے سچ کہتا ہے۔گویا اس طرح پر اس نے اپنی جہنمی زندگی کا اقرار کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۳۵۔  : اﷲ تعالیٰ انسان کے اعمال کے تقاضے کے مطابق سلوک کرتا ہے۔جب کسی کے اعمال کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ غوی مقرر ہو تو وہ ایسا ہو جاتا ہے۔پولوس نے تقدیر کے مسئلہ کو نہیں سمجھا اس لئے اس نے آخر بگڑ کر کہا کہ کاریگری کاریگر کو کیا کہہ سکتی ہے۔حالانکہ یہ مثال ٹھیک نہیں۔کیونکہ برتن وغیرہ میں تو عقل اور اختیارِ فعل کسی حد تک بھی نہیں اور انسان میں یہ بات ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۳۷،۳۸۔