حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 350
۹۴۔ اﷲ کا کوئی بنے تو بہت سُکھ پاتا ہے۔مگر افسوس بعض لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں رہتے ہیں بعض اپنی قومیت پر۔بعض جتھّے پر۔بنی اسرائیل کو مصر میں پہلے سب باتیں حاصل تھیں۔جتھّا بھی تھا۔قومیت بھی۔علم و فضل بھی جب اﷲ تعالیٰ سے تعلق منقطع ہوا تو یہ سب باتیں کسی کام بھی نہ آئیں۔وہ غلام بنائے گئے۔ان سے اینٹیں پکوانے کا کام لیا گیا۔بلکہ یہ بھی حکم ہوا کہ اس کا سامان بھی یہی مہیّا کریں۔پھر جب ان کو خدا یاد آیا تو خدا بھی ان پر متوجّہ برحمت ہوا۔: عربی زبان میں صدقؔ مضبوط جگہ کو کہتے ہیں۔: وہ دن بھی ہوتا ہے جس دن انسان مرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۹۵۔ : یعنی اے شک کرنے والے اگر تُو شک میں ہے۔عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ فعل سے فاعل مشتق ہو جاتا ہے۔