حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 348
اب خروج ۱۲ باب ۳ سے ۷ تک اور ۲۲ سے ۲۴ تک دیکھ ڈالو۔اس میں لکھا ہے کہ اسرائیلیوں کے سارے گروہ سے یہ بات کہو کہ اس مہینے کے دسویں دن ہر ایک مرد اپنے اپنے گھر باپ دادوں کے گھرانے کے مطابق ایک برّہ گھر پیچھے اپنے لئے لے اور شام کو ذبح کرو اور اس کا چھاپا دروازے پر لگاؤ۔باب ۲۳ میں ہے۔خداوند در پر سے گزرے گا اور ہلاک کرنے والے کو نہ چھوڑے گا کہ تمہارے گھروں میں آکے تمہیں مارے اور خداوند کا یہ بھی حکم تھا کہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور یہ رسم گھر کے اندر ہی ادا ہو۔یہی مطلب قرآن کا ہے کہ گھروں کو قبلہ بنا؟ؤ یعنی یہ رسم گھروں ہی میں ادا کرو … اہل اسلام کے نزدیک قبلہ وہ جگہ ہے جہاں قتل کا امن ۱؎ ضروری ہو اور جس پر خاص خداوندی نظر ۱؎ سے ہو گا۔واﷲ اعلم۔مرتب۔ہو۔چنانچہ دیکھو۔بیت اﷲ کی نسبت جو اہلِ اسلام کا قبلہ ہے۔قرآن میںحَرَمًا آٰمِنًا وارد ہوا ہے۔اس لئے کہ وہاں قتلِ نفس حرام ہے۔اس طور پر بھی قبلہ کہنا صحیح ہے۔کہ فرشتے نے بنی اسرائیل کے گھروں کو امن دیا اور فرعون کے پلوٹھے مار ڈالے۔قبلہ کے معنی متقابلہ کے بھی ہیں۔یعنی آمنے سامنے۔بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ اپنے اپنے گھر ایکدوسرے کے سامنے بنا دیں اور مصلحت اس میں یہ تھی کہ رات کو نکل جانے کیلئے اچھا موقع ملے۔دیکھو گنتی۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل (طبع اوّل) صفحہ ۲۰۵،۲۰۶) ۸۹۔ : انبیاء بہت رقیقاالقلب ہوتے ہیں۔مگر جب حجّت پوری ہو چکتی ہے تو پھر وہ بڑے سخت ہو جاتے ہیں۔ایک وقت ان کے مومن بنے کی کوشش فرمائی جاتی ہے۔دوسرے وقت میں کہا کہ ایمان لانے کی توفیق ان سے چھین لے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹)