حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 338
ہر ایک گروہ کے لئے ایک رسول ہے۔جب وہ رسول ان کا آتا ہے تو ان میں انصاف سے فیصلہ کیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۶) ۴۹،۵۰۔ اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچّے ہو؟ تو کہہ۔میں تو اپنی جان کیلئے نفع اور ضرر کا مالک نہیں۔مگر جو کچھ چاہے اﷲ۔ہر ایک گروہ کیلئے وقت اور معیاد مقرّر ہے۔جب ان کا وقت آجاتا ہے اُسے ایک گھڑی پیچھے نہیں کر سکتے اور نہ اس گھڑی کو آپ آگے لا سکتے ہیں۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۶) … یہ تو ایک پیشگوئی ہے اور اس میں جنابِ الہٰی نے بتایا ہے کہ ہر قوم کیلئے ایک شخص اﷲ کی طرف سے بھیجا ہوا آیا کرتا ہے۔جب وہ آتا ہے تو لوگ اس کے موافق بھی ہوتے ہیں اور مخالف بھی۔آخر دونوں کے درمیان انصاف کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔جب یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مخاطبین کو سناتے ہیں۔وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم اس پیشگوئی کے کرنے میں صادق ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ اس پر خدا تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ یُوں جواب دو کہ مَیں خود نفع پہنچانے اور ضرر دینے کا مالک نہیں کہ میں وقت بتا دوں۔ہاں اﷲ ہے۔جو اﷲ چاہتا ہے وہی ملا رہتا ہے۔ہر ایک کیلئے ایک وقت مقرّر ہے۔اس میں کم و بیش نہیں ہوا کرتا۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۵۔۷۶) ۵۵۔ : ندامت کو ظاہر کریں گے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۸)