حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 325

۱۱۔  مسلمانوں کے نزدیک بہشت نام ہے اس جگہ کا جہاں جیو یا رُوح کو ہر طرح کی راحت اور آرام ملے۔وہ ایک اعلیٰ سرور کا مقام ہے جس میں انسانی حالت خدا تعالیٰ کے متعلق تو یہ ہو گی جس کا بیان قرآن میں یہ آیا ہے… ’’ اور انکی پکارا س میں یہ ہو گی کہ اے اﷲ ! تُو پاک ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر ان کا قول سلام اور سلامتی ہو گا اور آخری پکار انکی یہ ہو گی کہ سب حمد اﷲ کے لئے جو ربّ العٰلمین ہے‘‘ اس آیت پر غور کرنے والا غور کرے کہ کس طرح بہشت میں جنابِ الہٰی کی تسبیحیں اور تحمیدیں کی جائیں گی اور کس طرح روحانی مزہ اٹھایا جائے گا۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ۱۲۰) وہ اﷲ کی پاکیزگی بیان کریں گے اور آپس میں سلامتی اور صلح سے رہیں گے اور آخری پکار انکی یہ ہو گی کہ حمد ہے اﷲ پروردگار کیلئے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۳۵) : اور انکی آخری پکار یہ ہو گی کہ اﷲ ربّ العٰلمین کی ستائش ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۴۱۔۱۴۲) ۱۲۔  : نادان انسان اپنے لئے عذاب مانگ لیتا ہے۔(انفال:۳۳) (ترجمہ: اے اﷲ اگر یہ حق تیری طرف سے ہے تو ہم پر پتھر برسا۔مرتّب)