حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 321
: گندے اور پاک کی تمیز کی جاتی ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۱۹ دفعہ ایسے فتنے آئے ہیں۔ظاہر کو باطن اور باطن کو ظاہر سے ایک تعلق ہے۔رسولِ کریمؐ کے حضور آدمی آئے۔ایک نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک جگہ ہے۔وہ تو جرأت کر کے وہاں چلا گیا۔دوسرے کو شرم آئی۔وہ آگے نہ ہوا۔سب سے پیچھے بیٹھ گیا۔تیسرے نے دیکھا کہ جگہ نہیں ہے۔اس نے اجتہاد کیا کہ میرا بیٹھنا فضول ہے۔چلا گیا۔نبی کریمؐ کو وحی ہوئی کہ جس نے شرم کی اسکے گناہوں کی پکڑ میں اﷲبھی شر م کریگا۔جو چلا گیا وہ بدنصیب ہے۔نبی و راستباز کی صحبت میں بیٹھ رہنے سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے۔خواہ کچھ نہ سُنے نفس ’’ بیٹھنا‘‘ بھی ان انوار و برکات سے حصّہ دلاتا ہے۔مَیں اپنے بچوں کو بھی قرآن شریف سنایا کرتا ہوں۔اب کوئی یہ نہ جانے۔کیا سمجھتے ہیں کیونکہ اس کا اثر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ایک عورت بیمار تھی وہ اس حالتِ مرض میں جرمن بولتی تھی۔لوگ حیران تھے۔مگر آخر معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر میں کسی پادری کی زبان سے جرمنی زبان کا لیکچر سُنتی تھی۔اس نہانی اثر کی وجہ سے مرض میں جرمنی بولتی تھی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے پیدا ہوتے ہی اذان سنانے کا حکم دیا ہے۔یہ لغو نہیں بلکہ اس کا اثر آئندہ عمر پر پڑتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱