حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 322
سُوْرَۃُ یُوْنُسَ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ : اَنَا ﷲُ اَرَی۔کیا دیکھتا ہوں؟اَرٰی اَعْمَالَکُمْ ! یعنی جو کچھ تم نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سلوک کر رہے ہو اور جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے تمہارے تعلّقات ہیں۔وہ سب میں دیکھ رہا ہوں۔: جامع کتاب۔کس معاملہ میں ؟ حق و حکمت کی بھری ہوئی۔سزا ہو گی تو بھی حکمت پر۔جزا بھی ملے گی تو بھی حکمت پر۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) ۳۔ : یہ سوال ہر زمانہ میں پیدا ہوتا رہا ہے اور کئی ایک کو دھوکہ لگتا رہا ہے کہ ظاہری تو شکل ہم جیسی ہے۔پس اس میں مابہ الاِمتیاز کیا ہے؟ حالانکہ مابہ الاِمتیاز ہوتا ہے۔گو عام فہم نہ ہو۔چنانچہ پہلا امتیاز تو یہی ہے کہ : مکذّب لوگوں کو عزابِ الہٰی سے ڈراوے۔: مومنین کو بشارت دے۔: دلرُبا باتیں کرنیوالا قوم سے کٹوا کر الگ کر دینے والا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء)