حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 319
۔یعنی چونکہ یہ تو ممکن نہیں اور نہ مناسب ہی ہے کہ سب کے سب مسلمان یک دفعہ ہی نکل جاویں۔اس لئے کیوں ہر گروہ سے ایک جماعت اس مقصد اور غرض کیلئے نہ نکلے کہ وہ تفقُّہ فی الدّینکرے اور جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں تاکہ وہ قوم بُری باتوں سے بچے۔اس آیت سے پہلی آیت میں انفاق کے فضائل بین ہوئے ہیں۔اس واسطے اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے انفاق کی ایک ضرورت بھی پیش ہوئی ہے۔(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۸) چونکہ یہ امر تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کُل مومن علومِ حقّہ کی تعلیم اور اشاعت میں نکل کھڑے ہوں۔اس لئے ایسا ہونا چاہیئے کہ ہر طبقہ اور ہر گروہ میں سے ایک ایک آدمی ایسا ہو جو علومِ دین حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کو حقائقِ دین سے اگاہ کرے تاکہ ان میں خوف و خشیت پیدا ہو لیں۔قرآن کریم نے جب ایک بہترین راہ ہمارے لئے کھول دی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس کو دستور العمل بنایا نہ جاوے؟ (الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۹) عام پور پر کل انسان ایک امام کے حضور جمع نہیں ہو سکتے۔کل دنیا نہ تو متفق ہی ہو سکتی ہے نہ وہ ایک جگہ جمع ہو سکتی ہے۔ملک کی طبعی تقسیم اس امر کی شاہد ہے۔اس عام نظارہ قدرت کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ سب کے سب امام کے حضور جمع رہو۔اور ہر وقت حاضر رہو۔قریباً تکلیف مالا یطاق ہو جاتی ہے جو اﷲ تعالیٰ نے نہیں رکھی… یہ خوبی اور عظمت اسلام کی ہی ہے کہ اس کے جمیع احکام اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک انسان ان سے اپنی استطاعت و طاقت کے موافق اپنی حالت اور حیثیت کے لحاظ سے یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص ہے وہ بیمار ہے اُٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر حتٰی کہ اشاروں سے بھی پڑھ سکتا ہے۔اس کا ثواب ایک مستعد تندرست آدمی کی نماز سے کم نہیں ہو گا اور نہ اس نماز میں کوئی سقم واقع ہو سکتا ہے۔ایک شخص استطاعت حج کی نہیں رکھتا۔حج نہ کرنے سے اس پر گناہ نہیں ہو گا۔اسی طرح پرتفقُّہ فی الدّین کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ہر شخص اتنا وقت اور فراغت نہیں رکھتا کہ وہ اس کام میں لگا رہے۔دنیا میں تقسیمِ محنت کا اصول صاف طور ہدایت دے رہا ہے کہ مختلف اشخاص مختلف کام کریں۔انسانی زندگی کی ضروریا ت کا تکفّل ہو گا۔اسی طرح اسی اصول کی بناء پر حکم ہوا کہ …… میں افسوس اور دردِ دل سے کہتا ہوں کہ عملی رنگ میں اس آیت کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۴نیز کتاب نور الدّین صفحہ۷۳)