حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 318

یعنی اور نہ وہ اﷲ کی راہ میں کوئی ہو ایسا تھوڑا یا بہت مال خرچ کریں گے اور نہ کوئی میدان طے کریں گے مگر یہ کہ ان کے وسطے اس خرچ اور سفر کی جزا لکھی جاوے گی تاکہ اﷲ تعالیٰ انہیں اس اچھے کام کا بدلہ دے جو وہ کرتے تھے۔اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مامورین کے وقت سفروں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور خدا کیلئے کوئی نہ کوئی سفر قوم کے بعض یا کل افراد کو کرنا پڑتا ہے۔پس وہ سفر بجائے خود اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہترین جزا کا موجب اور باعث ہوتا ہے۔غرض اس میں انفاق کی فضیلت بیان کر کے اس دوسری آیت میں جو تفقُّہ فی الدّینکے لئے ایک جماعت کے نکلنے کی ہدایت کرتی ہے۔انفاق کی ضرورت بیان کی گئی ہے۔عام طور پر کل انسان ایک امام کے حضور جمع نہیں ہو سکتے۔کل دنیا نہ تو متفق ہی ہو سکتی ہے نہ وہ ایک جگہ جمع ہو سکتی ہے۔ملک کی طبعی تقسیم اور پھر کل دنیا کی طبعی تقسیم اس امر کی شاہد ہے۔اس عام نظارۂ قدرت کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ سب کے سب امام کے حضور جمع رہو اور ہر قوت حاضر رہو۔قریباً تکلیف مالا یُطاق ہو جاتی ہے اﷲ تعالیٰ نے نہیں رکھی۔(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۸،(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۱۲۲۔  انسان کی ضرورتیں۔اس کی کم نظریاں۔انعاماتِ الہٰیہ کی وسعت سے بیخبری۔اسکی ذاتی کمزوریاں اور بشری تقاضے، بعض اوقات ایسا کرتے ہیں کہ وقت وہ ماموروں کی صحبت میں نہیں رہ سکتا۔اور وہ فیض اور فضل جو اُن کی پاک صُحبت ہی سے مختص ہیں، نہیں پا سکتا۔اس لئے ایک اور ضرورت پیش آئی۔وہ ضرورت ہے تفقُّہ فی الدّین کی۔تفقُّہ فی الدّینکے لئے پھر یہ حکم صادر ہوا کہ۔