حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 317

اور شیشم یا آم کے درخت کو ایک بھی کانٹا نہ لگایا۔اب اگر ایک احمق اعتراض کرے کہ یہ کیا کیا؟ کیکر کے درخت کو کانٹے کیوں لگائے؟ اور دوسرے کو کیوں نہ لگائے؟ یہ اس کی نادانی ہو گی یا نہیں؟ اس کی مصلحت اور ضرورت کو تو وہی خُدا سمجھتا ہے۔جس نے کیکر اور آم کو بنایا ہے۔دوسرا کیونکر اسے سمجھے۔اسی طرح پر انبیاء کے افعال و حرکات جیساکہ میں نے ابھی کہا ہے اﷲ تعالیٰ کے خفی و جکی احکام اور اشارات کے ماتحت ہوتے ہیں بعض اوقات ان کے افعال عام نظر میں ایسے دکھائی دئے جاتے ہیں جو دوسروں کو اعتراض کا موقعہ ملتا ہے۔مگر درحقیقت درست اور صحیح وہی ہوتا ہے۔اب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ بدر کی جنگ میں تین آدمی مخالفوں کی طرف سے نکلے ہیں اور تین ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے نکلے۔کوئی کہے کہ تین کے مقابلہ میں ڈیڑھ کافی تھا۔آپؐ نے تین کیوں بھیجے جو چھ کیلئے کافی تھے؟ مگر وہ بڑا ہی احمق اور نادان ہو گا جو کہے کہ یہ کاروائی غلط تھی۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کی مُرسَل مخلوق کو اپنی فراست پر قیاس نہیں کر لینا چاہیئے۔اسی لئے فرمایا کہ خیر القرون کی مخلوق کو تخلّف جائز نہیں ہے خواہ اس میں مصائب اور مشکلات ہی پیدا ہوں۔اور ہوتے ہیں مگر جب وہ اپنا کام اس پر مقدّم نہ کریں گے تو کیا یہ تکالیف اور مصائب اکارت جائیں گے۔کبھی نہیں۔سُنو۔ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ لَا یُصِیْبُھُمْ ظَمَلٌ وَّ لَا نِصِبٌ وَّ لَا مَخْمَصَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْکُفَّارَوَلَایَنَالُوْنَ مِنْ عَدُدٍّنَّیْلاً اِؤلَّا کُتِبَلَھُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌط اِنَّ اﷲَ لَایُضِیْعُ اَجْرَ الُُْحْسِنِیْنَ۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفر میں پیاس لگتی ہے۔موقع پر پانی نہیں ملتا۔بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔تکان یا تکالیف ہوتی ہے۔ایسا ہی سفر میں ممکن ہے کہ روٹی نہ ملے یا ملے تو وقت پر نہ ملے، اس قسم کی صدہا قسم کی تکلیف ہوتی ہے۔ایسا ہی سفر میں ممکن ہے کہ روٹی نہ ملے یا ملے تو وقت پر نہ ملے، اس قسم کی صدہا قسم کی تکلیف ہوتی ہے۔اس قسم کی تکلیف اور مشکلات اگر اﷲ تعالیٰ کے لئے ہوں اور یا دشمن سے کوئی فائدہ حاصل کرے۔غرض حضورِ الہٰی میں ان کا ثمرہ ضرور ہوتا ہے اور انکے ذمّہ اعمال میں نیک عمل لکھا جاتا ہے۔خدا چونکہ شکور خدا ہے۔وہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۷) ۱۲۱۔