حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 303
بعض وقت نافہم۔ناعاقبت اندیش ایک کام کرتا ہے اور اس کے نتائج کو نہیں سوچتا۔ (مومن : ۳۱) فرعون نے کہا (مومن :۳۰) جو مَیں کہہ رہا ہوں وہی کامیابی کی راہ ہے۔بہت سے لوگ ایک بات مُنہ سے نکال لیتے ہیں مگر نہیں دیکھتے کہ وہ نتائج کے لحاظ سے کیسی ہو گی۔ابوعامر ایک عیسائی تھا۔قیصر کے دربار میں اس نے مسلمانوں کے خلاف بہت سی کوشش کی حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب سنا کہ ابوعامر مسلمانوں کے خلاف کوشش کر رہا ہے۔اور ان دنوں آپؐ نے تبوک کی طرف چڑھائی شروع کی ہوئی تھی۔دو ماہ کے قریب خرچ ہونے تھے۔اور فصل پکی ہوئی تھی۔اس لئے منافقین نے بہت سے عذر تراشے اور پیچھے رہ گئے اور اس پیچھے رہنے پر خوش ہوئے۔اس کا ذکر اس رکوع میں ہے۔: شریر آدمی اپنے سات دوسروں کو بھی ملا لیتا ہے چنانچہ انہوں نے دوسروں کو بھی ترغیب دی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۸۲۔ : تھوڑی دیر ہنس لیں۔انہیں بہت رونا پڑے گا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۸) ۸۳۔ : دیکھو اﷲ بھی رحمن۔رحیم۔(الاعراف :۱۵۷)اور نبی کریمؐ رحمتہ للّعالمین۔مگر پھر بھی ان کے حق میں ایک قطعی فیصلہ ہوگیا۔یہ جو بڑی بڑی خطائیں کر کے معافی مانگنا پیشہ قرار دے لیتے ہیں۔غور کریں۔ایمان بین الخوف و الرجاء ہے۔: رسولؐ کے ساتھ۔نہ کہ دوسرے خلفاء کے ساتھ جنگِ تبوک سے جو پیچھے رہ گئے تھے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۸)