حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 302 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 302

پس تم کان کھول کرسنو۔اگر اب اس معاہدہ کے خلاف کرو گے تو کے مصداق بنو گے۔میں نے تمہیں یہ کیوں سنایا۔اس لئے کہ تم میں بعض نافہم ہیں جو بار بار کمزوریاں دکھاتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے بڑھ کر جانتے ہیں۔(بدر ۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحہ۱۱) یاد رکھو۔خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کے محروم ہونے کی ایک یہ بھی وجہ ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات اﷲ تعالیٰ سے کچھ وعدے کرتا ہے لیکن جب ان وعدوں کے ایفاء کا وقت آتا ہے تو ایفاء نہیں کرتا۔ایسا شخص منافق مرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس سے ہمیشہ بچتے رہو۔انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اس وقت وہ اﷲ تعالیٰ ہی کو اپنا ملجا و ماوٰی تصوّر کرتا ہے اور فی الحقیقت وہی حقیقی پناہ ہے۔اس وقت وہ اس سے وعدے کرتا ہے۔پس تم پر مشکلات آئیں گی اور آتی ہیں۔تم بہت وعدے خدا تعالیٰ سے نہ کرو۔اور کرو تو ایفاء کرو۔ایسا نہ ہو کہ ایفا ء نہ کرنے کا وبال تم پر آئے اور خاتمہ نفاق پر ہو۔(الحکم ۱۰؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۵، نیز الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۹ـ۱۰) ۷۹۔   : صحابہ میں ایسے بھی تھے جو مزدوری کرتے اور اپنی قوتب لایموت سے بجا کر خدا کی راہ میں دیتے۔بعض ان پر ہنسی کرتے۔اس سے منع کیا۔ایسے ہی بہت دینے والوں کو بھی مطعون کرتے رہتے کہ ریاء سے دیتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۸۱۔