حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 301

باغ ہے بہشتوں کے باغوں سے جیسے فرمایا ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اَلقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ یا وہ گڑھا ہے دوزخ کے گڑھوں میں سے جیسے فرمایا اَوْحُفْرَۃٌ مِّنْ حُفَرِ النّیْرَانِ اور قرآن کریم میں بار ہا ذکر ہوا ہے کہ مومن اﷲ تعالیٰ پر ایمان لانے والا بعد الموت معاً جنّت میں داخل ہو جاتا ہے اور شریرنار میں۔جیسے فرمایا ۔ (یٰسٓ:۲۷۔۲۸) اور منکروں شریروں کیلئے فرمایا گیا ہے مثلاً فرعون اور فرعون کے ہمراہیوں کیلئیاُغْرُِّوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا (نوح:۲۶) ہاں حشر اجساد کے وقت آخر عظیم الشآن تفرقہ سعید و شقی میں کر دیا جائے گا۔اسی واسطے اُس دن کا نام یوم الفصل آیا ہے۔پارہ۳۰ کی پہلی سورت۔مگر وہ حالت سرِدھت جنّت و نار کے دخول کی مانع نہیں۔اﷲ تعالیٰ توفیق فہم دے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ۳۴۔۳۵) ۷۷۔  : بہت معاہدے کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ ان کے نقص کا نتیجہ نفاق ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) : وعدہ خلافی کا نتیجہ نفاق ہوتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۸) میں نے اَلوصیتؔ خوب پڑھا ہے۔واقعی ۱۴ آدمیوں کو خلیفۃ المسیح قرار دیا ہے۔اور ان کی کثرتِ رائے کے فیصلہ کو قطعی قرار فرمایا۔اب دیکھو کہ انہی متقیوں نے ( جن کو حضرت صاحب نے اپنی خلافت کیلئے منتخب فرمایا)اپنی تقوٰی کی رائے سے اپنی اجماعی رائے سے ایک شخص کو اپنا خلیفہ و امیر مقرر کیا۔اور پھر نہ صرف خود بلکہ ہزارہا لوگوں کو اس کشتی پر چڑھایا جس پر خود سوار ہوئے۔تو کیا خدا تعالیٰ ساری قوم کا بیڑہ غرق کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔