حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 300
: دیکھو سورۃ احزابلَتُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِ رُوْنَکَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلاً(احزاب:۶۲) یہ دنیا کا عذاب منافقوں کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد میں ہو چکا۔(احزاب:۶۲) جب دنیا کا عذاب ثابت ہو چکا توآخرت میں ضرور آئے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) : شیعہ سے پوچھو کہ اگر ابوبکر خلافت چاہتے تھے تو انہوںنے پالی۔پس وہ منافق کیونکر ہوئے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ ۴۵۸) عمائد منافقین مدینہ کو کہا کہ شرارتوں سے باز آ جاؤ واِلَّا اس جہان اور قیامت میں دُکھ پاؤ گے جیسے آیت ذیل میں آیا ہے۔ ۔اب غور کرو کہ ان ناعاقبت اندیش لوگوں کی یہ خبر ہے۔کہ ان کو عذاب دیں گے۔اس دنیا میں اور ان کے لئے عذاب ہے آخرت میں۔پھر ایک اور خبر ہے کہ ان کو کوئی بھی والی وارث یا دوست نہ ہو گا (اور تیسری خبر ہے کہ انکا کوئی مددگار نہیں رہے گا) پھر دیکھو یہ تینوں خبریں اپنے وقوع کیساتھ ہمیں دنیا میں نظر آ گئیں۔جب یہ دونوں اپنی مناسبت سے صحیح ہو گئیں تو تیسرا علم جو انہیں کا مساوی ہے کیونکر صحیح نہ ہو گا کہ قیامت میں عذاب پاؤ گے۔… اسلامی اصطلاح میں قیامت کے لفظ کے معنی تو بہت ہیں۔مگر مشہور یہ دو ہیں۔اوّل مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ ۱؎ جو مر گیا اسکی قیامت قائم ہو گئی۔دومؔ مَا بَعْدَالْمَوْتِ حَشْرُاَجْسَادٍکیوقت جب سعید و شقی بالک الگ الگ ہو جائیں گے اس کا نام قیامت ہے۔مابعد الموت کوئی جیل خانہ نہیں اور وہ کوئی حوالات نہیں۔قبر میں داخل کرنا اﷲ تعالیٰ کا کام ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا فَاَقْبنرَہٗ(عبس :۲۲) کہ قبر میں اﷲ تعالیٰ داخل کرتا ہے اور وہ قبر جس میں اﷲ تعالیٰ داخل فرماتا ہے۔وہ ایک ۱؎ احادیث کا فقرہ ہے۔