حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 299

:  کی ضمیر کے مرجع پر لوگوں نے بحث کی ہے۔بعض دونوں کی طرف پھیرتے ہیں۔بعض صرف منافقین کی طرف۔میرے نزدیک دونوں کی طرف ہے کیونکہ دوسری جگہ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ(فتح:۳۰) آیا ہے جس کے معنی حضرت صاحب نے یہ کئے ہیں کہ کفّار کی بات تم پر اثر نہ کرے۔: عَلٰی اکَمَۃٍ غَلِیْظَۃٍ۔اس کے معنے مضبوطی کے ہیں۔: جہنم عقائدِ فاسدہ کے جلانے کی بھٹی ہے۔اس سے بچاؤ ہوتا ہے بذریعہ توبہ، استغفار، صدقہ، دوسرے سے دعا کرانا، مصائب کا آنا، قبر کے مشکلات، مرنے کے بعد لوگوں کا جنازہ پڑھنا اور انکو ثواب پہنچتا ہے۔کھانے کا، روزے کا اور میرے نزدیک کلامِ الہی کا بھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ نومبر ۱۹۰۹ء) یہ جو کہتے ہیںکہ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَکیماتحت منافقوں سے کیوں جہاد نہیں کیا گیا۔یہ غلط ہے کیونکہ منافقوں سے لڑائی ہوئی چنانچہ چنانچہقُتِْکُوْا تَقْتِیْلًا (احزاب:۶۲)سے ظاہر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) : کوئی صحابی منافق نہ تھا۔اگر ہوتا تو نبی کریمؐ ضرور اس سے جنگ کرتے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۸) ۷۴۔ : چونکہ ان میں قوّتِ فیصلہ اور تابِ مقابلہ نہیں ہوتی اس لئے وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔: شیعہ غور کریں جو کہتے ہیں۔حضرت علیؓ نے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ بننا چاہا تھا بالکل غلط ہے۔کیونکہ اس طرح حضرت علیؓ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔