حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 298

تم نے بھی بہت سے لفظ سُنے ہوں گے۔اچھے اچھے متین کہہ اُٹھتے ہیں۔فلاں شخص ہمارا دوست ہے اسکو کہہ کر فلاں کو گرفتار کرا دیں گے۔نوکری کیلئے سفارش کر دیں گے۔چہ جائیکہ صوبہ کا حاکم یا بادشاہ کے ساتھ تعلق ہو۔پس وہ احکم الحاکمین مولیٰ کریم تو ذرّہ ذرّہ پر حاکم ہے۔جہاں واہمہ کی واہمہ بھی برداشت نہیں کرتی۔کہ اگر وہ راضی ہو جاوے تو کس قدر خوشحالی پیدا ہو سکتی ہے۔اسی بناء پر وہ دعوٰی ہے جو آج بہت سے بھائیوں نے سنا ہو گا کہ دنیا کا نور میں ہوں۔میں اس کا فاتح ہوں میرا مقابلہ کون کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔کیا یہ کوئی انسان باوجود اپنی ہمہ ضعف و توانائی کے کہہ سکتا ہے۔جو ذرا ذرا سی باتوں کا محتاج ہے۔غور تو کرو اس کا منبع وہی ہے ۔سارے دنیا پرست، دنیا کے کتّے۔ساری دنیا کے حکمران سب اﷲ تعالیٰ ہی کی رضا کے محتاج رہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ اگر حامی و مددگار ہو تو کسی کی دشمنی اثر نہیں کر سکتی۔وہ آدمی بھی دیکھے ہیں جو دستخط کرتے ہوئے اور کسی کی بھلائی یا برائی کا فیصلہ کرتے ہوئے قلم آگے پیش کیا ہے اور جان نکل گئی ہے۔خدا کی بڑی بڑی عظیم الشان طاقتیں ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں ا سکتی ہیں۔لایک آن میں لاکھوں لاکھ پیدا کر سکتا ہے اور فنا کر سکتا ہے۔(الحکم ۱۰؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۴۔۱۵) ۷۳۔  مثنوی میں ایک بات لکھی ہے گنّے اور چاولوں کو بہت پانی دیا جاتا ہے۔پانی میں تمام بیجوں کا مادہ ہوتا ہے اس لئے کچھ اور گھانس وغیرہ بھی اس میں اُگ آتی ہے۔اس کو بذریعہ نلائی کے دور کیا جاتا ہے اسی طرح منافقین کو مومنین سے الگ کیا جاتا ہے اور اس کیلئے بڑے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ رذائل تو انسان میں پہلے آتے ہیں۔ان کے دُور کرنے کیلئے بڑا مجاہدہ چاہیئے۔