حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 295
: اس سے مراد یہاں زکوٰۃ کا روپیہ ہے۔اس کے مصارف بیان فرماتا ہے۔: یہ فقیر کی جمع ہے جس کے معنے ہیں محتاج۔یہ کئی قسم ہیں۔مثلاً کوئی شخص یوں تو دولتمند ہے مگر اتفاقاً ریل کے سٹیشن پر اس کے پاس روپیہ نہ رہا۔تو اس وقت وہ فقیر ہو گیا۔گویا ایک وقت ایسا آ گیا کہ محتاج ہو گیا۔: جو ہاتھ پاؤں نہ چلا سکے۔یہ بھی کئی قسم ہیں۔مثلاً ایک جلد ساز ہے اور اس کے پاس جلد کرنے کا سامان نہیں تو وہ مسکین ہے۔: نبی کریمؐ کے زمانے میں زکوٰۃ آپؐ کے حضور پہنچائی جاتی تھی۔پس جو اس کو جمع کرنیوالے تھے انکو عاملین کہتے۔: مثلاً ایک سکھ یا عیسائی آ گیا۔اب اسے مکان چاہیئے کھانا چاہیئے وغیرہ ضروریات۔: غلام اور ایسے قیدی جو بذریعہ روپیہ خلاصی ہو سکیں۔: دشمن کے مقابلہ کیلئے جو تیاری کرنی پڑتی ہے۔اگر لڑائیوں کے دن ہیں تو اس میں رسد و ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔اگر قلم کی جنگ ہے تو پھر کتابوں کی تصنیف و تالیف و اشاعت کا خرچ ہے۔اور اگر روبُرو مکالمہ ہے تو عمدہ تقریر۔کلامِ موجّہ کی ضرورت ہے۔اس پر بھی روپیہ خرچ ہوتا ہے۔میرے نزدیک آجکل قرآن و حدیث کی ترویج میں لگانا ہے۔: مسافر لوگوں کو عجیب عجیب ضرورتیں پیش آتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ ستمبر ۱۹۰۹ء) زکوٰۃ کیا ہے ایک قومی اور مشنری چندہ ہے جس میں سوائے خاص مصرفوں کے کسی متنفس کی خصوصیت نہیں۔زکوٰۃ اور صدقات کن لوگوں کیلئے ہیں۔دیکھو قرآناِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَدَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ اِلٰی فَرِیْضَۃً مِّنَ اﷲِ آلِ محمدؐ کی قوم بنو ہاشم پر زکوٰۃ اور صدقہ حرام ہے انکو جائز نہیں کہ ان مشنری چندوں سے کچھ لیں۔گو کیسے ہی غریب اور مسکین کیوں نہ ہوں۔منصفو! یہ استثناء بھی قابلِ غور ہے۔امام حسین رضی اﷲ عنہ بچے تھے تو آپؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی اور چاہا کہ منہ میں ڈالیں۔جناب رسالت آبؐ نے منع فرمایا۔اور منہ سے نکلوا دی۔(فصل الخطاب طبع دوم جلد اوّل صفحہ ۳۶)