حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 290

ہر قوم بلکہ ہر شخص کیلئے ایک امتحان ہے جس سے اُس کے جوہرِ مخفی معلوم ہوتے ہیں۔خدا نے ابوالحنفاء۔ابوانبیاء ابراہیمؑ کا ابھی امتحان لی۔۔مُبْتَلِیْکُمْ بِنَھَرًکے مخاطبوں کا بھی امتحان لیا۔امتحان کئی قسم کا ہے۔ایک ذلیل کرنے کیلئے (الاعراف:۱۶۴)ایک اس لئے کہ اپنی غلطیوں کو چھوڑ دے۔(الاعراف:۱۶۹) ایک کمالات کے اظہار کیلئے جیسے (البقرۃ:۱۲۵) : غرض تمہاری اس سفر میں دنیا کی کوئی خواہش ہو رہی ہے۔: لوگ کہتے ہیں کہ اسلام تنزّل میں ہے۔یہ غلط ہے اسلام ضرور دنیا میں رہے گا۔مگر ڈر تو یہ ہے کہ اسلام ہمارے گھروں سے نکل کر کسی اور قوم میں چلا جائے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اُتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَدَکُوْکُمْ۔خوارزم۱؎ کے ایک بادشاہ نے اس کے خلاف کیا۔چنگیزخانیوں کو لڑائی کیلئے بلایا۔اس نے جواب میں کیا عمدہ لکھ کہ اوّل تو تمہارا قرآن شریف مانع ہے۔کیونکہ اس میں حکم ہے۔(البقرہ:۱۹۱) دومؔ ہم تمہارے ساتھ لڑتے نہیں۔حدیث میں ترک کے ساتھ جنگ کی ممانعت ہے سومؔ ہمارے تاجر تاجرانہ حیثیت سے آئے ہیں۔سلطنت سے کچھ تعلق نہیں۔اس ناعاقبت اندیش نے اس پر غور نہ کیا۔لڑائی چھیڑ دی۔آخر اٹھارہ لاکھ مسلمان اس میں ہلاک ہوئے۔تمام کتب خانے تباہ ہوئے۔ہزار آدمیوں کو جن کی نسبت خیال تھا۔دعوٰی سلطنت کریں گے زندہ دیوار میں چنوا دیا۔غرض یہ سب کچھ مسلمانوں نے دیکھا اور نافرمانی نے دکھایا۔مگر نافرمانی کو نہ چھوڑا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء)