حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 283

کرتے۔اصل بات سناتے ہیں۔عرب میں ان دنوں میں جنگ کا یہ دستور تھا کہ پہلے مبارزہ ہوا کرتا تھا۔یعنی ایک آدمی دوسرے کے مقابل نکلتا۔پھر مبارزہ کے بعد تیروں سے جنگ کی ابتداء ہوتی تھی۔اور قاعدہ ہے کہ اگر ایسی جنگ کے وقت تیز ہوا چل پڑے۔تو اس وقت جس لڑنے والی فوج کی پیٹھ کی طرف سے ہوا آئے گی۔اس کی آنکھوں کو کچھ حرج نہیں پہنچے گا۔اور ان لوگوں کے تیروں کو مدد دیگی۔مگر جس فوج کے سامنے ہوا کا دھکا ہو گا۔ان کی آنکھوں میں پڑے گا۔نہ وہ ٹٍیک نشانہ لگا سکیں گے۔اور نہ مقابل کو اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔ایسی باتیں بہت جنگوں میں ہمارے نبی کریمؐ کے عہدِ سعادت مہد میں پیش آئیں۔چنانچہ بدرؔ اور حنینؔ بلکہ احزاب و خندق میں بھی ایسے ہی واقعات وقوع میں آئے۔اسی نعمت کے یاد دلانے کیلئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے(سورۃ الاحزاب:۱۰) (التوبہ:۲۶)جب حضرت ہادیٔ کامل ( صلیّ اﷲ علیہ وسلم) نے مخالف کا زور زیادہ دیکھا تو ایک مٹھی کنکروں کی مخالف کی طرف پھینکی اور دوسری طرف اس وقت جنابِ الہٰی نے اپنی سُنَنْ میں وہ وقت رکھا تھا کہ کنکر پھینکنے والی تیز ہوا چل پڑی اسی طرح عادۃ اﷲ ہے۔اس طریق سے سلسلہ نظامِ کائنات یعنی جسمانی سلسلہ بھی قائم رہتا ہے اور روحانی سلسلہ اور الہٰی سلسلہ یعنی انبیاء و اولیاء اور مومنین کی فتح و نصرت کا سلسلہ بھی قائم ہے اور روحانی سلسلہ اور الہٰی سلسلہ یعنی انبیاء و اولیاء مومنین کی فتح و نصرت سلسلہ بھی قائم رہتا ہے۔اﷲ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کی نصرت کے وقت ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جو انسانی طاقت سے بالا تر ہوتے ہیں اور ہوتے ہیں اس کی سنّت اور قانونِ قدرت کے موافق۔چنانچہ میں ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں جو اسی طرح تہیّہ اسباب اور اسی قسم کی خدا کی نصرت کا ثبوت ہے۔مرزا نظام الدّین