حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 282 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 282

شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ گزرے کہ خود آنحضرت پر بھی تکلیف و مصیبت آئی۔سو یاد رکھنا چاہیئے کہ قوم کا خیر خواہ اور ان کا دلی ہمدرد، ہادی و مصلح ہر حال میں اپنی قوم کا شریک ِ نیک و بد رہتا ہے بعض اوقات میں اس لزوم کی وجہ سے ضرور ہے کہ ان لوگوں کے مصائب و آلام سے اُسے بھی حسبِ قانونِ قدرت بِہرہ ملے تاکہ ہر حال میں ان کا ہمدرد اور سچّا رفیق و انیس ثابت ہو۔پس یوں ہی ہوا کہ جب اس معرکے میں بعص کو تاہ اندیش آدمیوں کی غلطی کے سبب سے مسلمانوں پر ایذاء آئی۔سچے ہمدرد رسول مقبولؐ نے ان سے الگ ہوناگوارر نہیں فرمایا۔بلکہ ان کی شمولیت میں اُس دُکھ سے حصّہ لیا۔اسی لئے ہاں وجودِ بانود کے طفیل پھر رحمتِ الہٰی ان لوگوں کی ممدو معاون ہوئی۔(فصل الخطاب ایڈیشن دوم جلد اوّل صفحہ ۱۵۴،۱۵۵) ۲۶۔  : رسول اﷲ علیہ وسلم نے اپنی خچر کی باگ ان سو نیزہ زنوں کی طرف پھیر دی اور کہا۔اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء ) جن لوگوں کو حضرت نبی کریمؐ کی اتباع اور معیّت کا شرف بخشا اور چاہا کہ انہیں دنیا پر حق کو پھیلانے کا آلہ اور ذریعہ بنائے۔ان پر یہ فضل کیا کہ ان میں اخلاص و حدت۔خداترسی۔شجاعت۔عفّت۔صلح۔خودداری۔استقلال اور توجہ الی اﷲ کی قوّت بڑھتی جاتی تھی اور ان کے مخالفوں میں نفاق۔غرور۔کبر۔تہوّر۔جُبن فِسق۔فجور۔غضب۔عجز وکسل اور غفلت ترقی پر تھی۔اس روحانی لعنت کے قبضہ میں ہو کر اگرچہ وہ لوگ ان برگزیدوں کے مقابل اپنی ساری طاقتوں اور مال اور جان کو خرچ کرتے مگر نامراد اور ناکام رہ جاتے اس قصّہ کو اب ہم لمبا نہیں