حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 281
ہوزن و حنین کے مقابلہ کے وقت صحابہ بارہ ہزار آدمی تھے۔اس وقت مسلمانوں کے دلوں میں گھمنڈ آ گیا۔کہ اب ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔یہ ایک عُجب تھا۔اس لئے حنین میں پہلے ناکامی ہوئی۔جس طرح لاہور کی فتح کے بعد انگریزوں سے چیلیاں ( والا) موجیاں ( والا) وغیرہ پر جنگ ہوئی تھی اور وہ سکھوں کی مذبوحی حرکت تھی۔اسی طرح مکّہ کی فتح کے بعد چند بھگوڑے ادھر ادھر جمع ہو کر حنین میں مقابلہ پر آئے۔اَعْجَبَتْکُمْ: عُجب میں ڈالا کہ ہمارا جتّھہ، ہمارا فہم ہمارا زور بہت زیادہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء جلد ۹ نمبر ۱ صفحہ ۱۱۴ ) غزوہ حنین میںاِذْ اَعْجَبَتْکُم کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ کی آیت نازل ہوئی۔کہ کثرت نے عُجب دلایا تو یہ کثرت کسی کام نہ آئی بلکہ زمین باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی۔ایسی تنگ گھڑیوں میں جب سب سے ساتھ چھوٹ گیا۔حضرت سرورِ کائناتؐ اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ اَنَا اِْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ پکارتے جاتے تھے۔(تشحیذالاذہان جلد ۶ نمبر۹ صفحہ ۳۵۷) غزوہ حنین میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اس کا سبب خود ہی قرآن نے بتایا ہے… جب تمہاری کثرت تمہیں گھمنڈ میں لائی پس تمہارے گروہ تمہارے کسی کام نہ آئے پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے اہل اسلام اس غزوہ میں اپنی کثرت و جمیعت پر پھُول گئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان ہدایت نشان کو طاق پر دھر دیا اور اس خداداد قوّت اور عطیّہ سے جسے حزم کہتے ہیں کام نہ لیا۔اس لئے وہ چند لمحہ کی اور جلد تدارک پانے والی تکلیف انہیں پہنچی۔کیونکہ وہ لوگ حکمِ رسولؐ سے غافل ہو گئے پس یقیناًرسول اﷲ ان میں اور وہ رسول اﷲ میں اس وقت نہ تھے گو تھوڑی دیر بعد پھر نصرتِ الہٰی نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ایسا ہی جو صدمہ اہلِ اسلام کو غزوۂ اُحد میں پہنچا۔اس کا سبب بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نافرمانی ہوا۔کہ عبداﷲ بن جبیر کے ہمراہیوں نے بخلاف حکم آنحضرت صلی اﷲ عیہ وسلم کے اونچے ٹیلے کو جس پر ثابت رہنے کیلئے آپؐ کا تاکیدی حکم تھا۔چھوڑ دیا۔اس لئے وہ صدمہ انہیں پہنچا جس کا تدارک فضلِ ایزدی نے بہت جلد کر دیا… پس یہاں بھی کیسی صاف بات ہے کہ اس مصیبت کے نزول پر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان میں نہ تھے کہ عدولِ حکمی سے یہ سزا ان پر آئی۔