حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 272

 میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔وحدت کی رُوح کو جو کہ صحابہ کرامؓ میں پھونکی گئی تھی اس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تعبیر کیا ہے۔اس وحدت کے پیدا ہونے کیلئے چاہیئے کہ آپس میں صبر اور تحمل اور برداشت ہو۔اگر یہ نہ ہو گا اور ذرا ذرا اسی بات پر رُوٹھو گے تو اس کا نتیجہ آپس کی پھُوٹ ہو گا۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۱۰) دیکھو دو کو ایک کرنا سخت سے سخت مشکل کام ہے تو پھر ہزاروں کا ایک راہ پر جمع کرنا اور ان میں وحدت اور اُلفت کا پیا کر دینا خدا کے فضل کے سوا کہاں ممکن ہے۔دیکھو تم خدا کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے۔اس نعمت کی قدر کرو اور اسکی حقیقت کو پہچانو اور اخلاص اور اثبات کو اپنا شیوہ بناؤ۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۸) ۶۵۔ بدیوں پر اسے جرأت ہوتی ہے جو مومن بِاﷲ نہ ہو یا مومن بِلیوم الآخرۃ نہ ہو۔’’ یا مستحق کرامت گنہگار انند ‘‘ پر ایمان لایا یا صحبتِ بد میں رہنے والا۔: اے نبی تجھے اﷲ بس ہے اور جو تیرے ساتھ مومن ہیں ان کو بھی اﷲ بس ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۷) ۶۶۔