حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 267
ایک دفعہ مجھ سے بھیرہ میں اولیاء اﷲ سے پکار کر دعائیں مانگنے کے عدِم جواز میں مباحثہ ہوا مخالفین نے یہ بات مان لی کہ ہم زمانہ سلف کے کسی بزرگ کا قول مان لیں گے۔شاہ عبدالعزیزؒ کی تفسیر میں مجھے (مزمل:۹) کے نیچے یہ مل گیا کہ مسلمانوں میں جو اپنے پیروں کے حق میں علمِ غیب کا اعتقاد رکھتے ہیں۔وہ مُشرک ہیں وہاں بڑے مکّار مولوی جمع تھے۔ایک نے میرے پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا کہ بچّہ کیوں گھبراتے ہو۔ہم تمہارے دشمن نہیں۔گویا وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں گھبراہٹ کی حالت میں سب کچھ کہہ رہا ہوں۔دوسرے سے میں نے کہا۔تم ہی یہ عبارت پڑھ دو۔وہ کھڑا ہو کر رونے لگا۔اور کہا تفسیروں میں بھی تحریف ہو گئی یہ لفظ بیراں ہے جس سے مراد ہے کہ ہنومان وغیرہ سے دعا نہ کریں۔گویا میری دلیل کو اپنے فریب سے مشتبہ کر دیا۔اس وقت میں نے دعا کی اور ثابت قدم رہا۔آخر میری فتح ہوئی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۴۷۔ : اس کا معنی ہے اور آپس میں تنازعہ مت کرو۔اگر کرو گے تو پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا( قوّت۔طاقت۔رعب۔نفاذِ حکم ) بگڑجائے گی سو حکم کی خلاف ورزی کا صحیح نتیجہ نکلا۔نہی کا منشاء تھا کہ باہم پھُوٹ نہ کرنا۔پس جب نہی کی خلاف ورزی ہوئی۔اس کا ثمرہ ملا۔اب بھی بعض ریاستیں صرف اس لئے قائم ہیں کہ بربادشدہ ریاستوں کی وجوہِ بربادگی بیان کریں۔مگر اسلامی یک جہتی۔وحدت کتاب۔وحدت کلمہ۔وحدت اعمال ضروریہ اور ظہور امام واحد یقین دلاتا ہے کہ بہار کے دن ہیں۔۔کیا روز افزوں ترقی کو ہر روز ہم نہیں دیکھتے ہیں اور آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں کہ اسلام کا انجام بخیر ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۵۹۔۶۰ نط ص) یعنی اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اور انکی اطاعت اسی حال میں کر سکو گے جبکہ تم میں تنازع نہ وہ۔اگر تنازعات ہوں گے تو یاد رکھو کہ قوّت کی بجائے تم میں بزدلی پیدا ہو گی اور جو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہو گی وہ نکل جاوے گی۔یہ بات تم کو صبر اور تحمّل سے حاصل ہو سکتی ہے۔ان کے اپنے اندر پیدا کرو۔تب خدا کی معیت تمہارے ؟شاملِ حال ہو کر وحدت کی روح پھونکے گی۔پس اگر تم کوئی طاقت اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہو اور مخلوق کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہو تو صبر اور تحمّل سے کام لو اور تنازع مت کرو۔اگر چشم پوشی سے باہم کام لیا جاوے تو بہت کم نوبت فساد کی آتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ لوگ جسمانی بیماریوں کیلئے تو علاج اور دوا تلاش کرتے ہیں لیکن روح کی بیماری کا فکرکسی کو بھی نہیں۔اس وقت مسلمانوں کی حالت کی مثال