حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 263

۳۵۔   : یہ پیشگوئی تھی جو پوری ہو گئی۔خانہ کعبہ کے متولّی نبی کریمؐ اور ان کی جماعت ہوئی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۳۷۔  : تیرے مخالف مال و دولت خرچ کریں گے۔پھر ان پر افسوس ہو گا اور مغلوب ہوں گے۔( اب ہمارے مخالف بھی اموال خرچ کرتے ہیں۔دیکھیں کہ کس قدر وہ خرچ مفید ہوتا ہے؟ (نور الدین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۳۹) نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاملہ میں بھی ناعاقبت اندیش تعلّی کرنے والے متکبّروں نے چندہ جمع کیا اور منصوبہ کیا کہ ہم اس کو نیست و نابود کر دیں گے اور خال میں ملا دیں گے۔اس ناتوانی کی حالت میں نبی کریمؐ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا پہنچی۔تیرے مقابلہ میں یہ صنادیدِ مکّہ بڑے بڑے مدبّر اور منصوبہ بازمال خرچ کریں گے ۔یہ سارا مال ان کیلئے حسرت و افسوس کا موجب ہو گا۔افسوس تو اس لئے ہو گا کہ مال بھی خرچ کیا اور ناکامی کا داغ بھی لگا۔مگر یہاں تک ہی انتہا نہیں۔ابھی ایک اَور ذلّت ان کیلئے باقی ہے۔ پھر مغلوب ہو کر ذلّت کی موت مریں گے اب دیکھو۔حالت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم شہر میں پوری آزادی کے ساتھ کھل کر نکل نہیں سکتے اور نکلتے ہیں تو شہر سے باہر ایک ایسی غار میں جو خطرناک جگہ ہے چھُپے ہیں۔اس پر یہ دعوٰی ہے  کیا معنی؟ تیرے دشمن ذلّت اور ناکامی اور حسرتوں کی موت مریں گے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ اﷲ جلّ شانہٗ کی وہ ذات پاک ہے کہ جس پر وہ راضی ہو جاوے اس کی بات عظیم الشان بات دکھلاتی ہے