حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 262
۳۳۔ : شَقِّی لوگوں کی یہی علامت ہے کہ وہ کسی کے حق ہونے کا ثبوت اسی میں مانگتے ہیں۔ابوجہل نے بھی یہ دعا کی تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۳۴۔ اور اﷲ ہرگز نہ عذاب کرتا ان کو جب تک تُو تھا اُن میں۔میں جوھُمْ کی ضمیر ہے اُس کا مرجع وہی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے۔اصل مطلب یہ ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بہ تنذیرِ قرآن کفارِمکّہ کو عذابِ الہٰی سے ڈرایا کہ قرآن کی تکذیب و انکار پر ضرور ضرور غضبِ الہٰی ان پر نازل ہو گا۔اس پر ان جاہلوں نے از راہ کمال جرأت وہ کہا۔جس کا مضمون… باری تعالیٰ نے فرمایا۔کہ جب تک تُو اے محمد ان لوگوں میں ہے۔( یعنی سر زمین مکّہ اور اس کے اہالی کے درمیان) تب تک اُن پر عذاب نہیں آئے گا۔اور بے شک یہ وعیدِ الہٰی۔یہ پیشینگوئی ایک برس بعد ہجرت کے جب آپ مکّہ کو چھوڑ مدینہ چلے گئے پوری ہوئی… ایک اور بات خیال میں آئی جس کا لکھنا شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔سنو۔ہم اسی بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بلحاظ اصل مطلب معترض کے معنی صحیح ہیں گو… آیت کا مدعا یہ نہ ہو کہ ’’جب محمدؐ محمدیوں میں ہو۔اس کے یہ معنی کہ محمد رسول اﷲ کی اصلی اور واقعی تعلیم پر ان کا ٹھیک ٹھاک عمل ہو اور سَرِمُوْ اُس کے پاک احکام سے وہ تجاوز و انحراف نہ کریں۔پس کیا ہی صحیح بات ہے کہ جب تک محمدؐ محمدیوں میں ہو ان پر کوئی عذاب نہ آوے گا۔ہم دعوٰی کرتے ہیں اور بڑی دلیری سے دعوٰی کرتے ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی عذاب کبھی بھی نہیں آیا۔جب تک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان میں رہے بایں معنی کہ ان کے کلامِ مقدّس پر اہل اسلام کا ٹھیک ٹھاک عمل رہا۔تاریخ صاف شہادت دیتی ہے کہ جب اہلِ اسلام نے اپنے پیارے ہادی کے نصائح سے انحراف کیا۔جب ہی ان پر ادبار آیا۔(فصل الخطاب ( ایڈیشن دوم) حصّہ اوّل ۱۵۳۔۱۵۲)