حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 261 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 261

اصل بات یہ ہے کہ نبی کریمؐ نے اقوام عرب کو عبادتِ الہٰیہ کی طرف بلایا اور بُت پرستی اور بدچلنی کے اقسام سے روکا اور باہمی خانہ جنگیوں سے ہٹا کر ان میں وحدت و اتحادکی رُوح پھونکنی شروع کی اس پر مشرک نادان احمقوں نے آپؐ کے مقاصد کے برخلاف بڑی بڑی تدابیر شروع کر دیں اور آپؐ کو اس پاک ارادہ سے ہٹانا چاہا اور آپ ؐ کو اور آپؐ کے احبّاء کو دُکھ دئے اور مخفی تدابیر سے اسلامی کارخانہ کو نابود کرنا چاہا۔اس پر اﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو تسلّی و طمانیت بخشی کہ تیرے مقاصد و مطالب کو کوئی نہیں روک سکتا اور یہ لوگ ناکام رہیں گے۔اور انکی مخفی تدبیریں خود ان پر الٹ پڑیں گی۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۶۴۔۶۵) اہل مکّہ نے تمام اپنی تدابیر کو اسلام کی روک میں کمزور دیکھ کر چاہا کہ نبیؐ عرب کو قتل ہی کر ڈالیں مگر بعض قومی اور رسمی بندشوں کی وجہ سے بنی مُطَّلِب سے ڈر گئے۔اس لئے دارالندوہ میں ایک انجمن منعقد کی۔وہاں یہ تجویز ٹھہری کہ مختلف قبیلوں کے چند نوجوان ہوشیار مل کر ایک ہی دفعہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑیں اور تلوار سے اس کا کام تمام کر ڈالیں۔بنو مُطَّلِب کس کس سے لڑیں گے۔آپ الہام الہٰی کے مخبر سے اطلاع پا کر مع ابوبکر ؓ صدیق اپنے خالص رفیق کے مدینے کو چلے گئے اس کمیٹی کی مختلف راؤں اور فیصلے کے بابت قرآن میں یوں آیا ہے… ’’ جب کافر تیری بابت تجویز خفیہ لڑ رہے تھے کہ تجھے قید کریں یا نکال دیں یا مار ڈالیں اور اﷲ یہی تجویز کر رہا تھا اور اﷲ تدابیر میں سب پر غالب ہے‘‘ آپؐ کے پکڑ لانے پر سو اونٹ کا انعامی اشتہار دیا گیا۔عرب مفلس جنگجو اور سو اونٹ کا انعام خوب قابلِ لحاظ ہے۔خدا کے فضل سے آپؐ تو مدینے میں پہنچ گئے اور بڑے اعزاز و اکرام سے وہاں قبول کئے گئے۔اُس وقت سے قریش اور ان کے شرکاء یعنی یہودیوں کے بُغض و عناد سے مسلمانوں کو اپنی حراست اور حفاظت نہایت بیدار مغزی کے ساتھ کرنی پڑی۔سبحان اﷲ ! ایک چھوٹے سے شہر پر ہزرہا قبائل عرب کے متفق و متواتر حملوں کو روکنا پڑا۔پس ایسے ہنگام میں سخت تدارک کرنے کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ مسلمانوں کے گروہ کا وجود باقی رہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۹۸۔۹۹) ۳۲۔  : اس زمانہ میں بھی ایسا کہنے والے موجود ہیں۔دھرم پال نے ایک رسالہ اس نام کا لکھا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء)