حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 248
۱۹۹۔ میں نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ آج قرآن شریف کا درس کہاں سے شروع ہو گا؟ تو اس نے کہا۔میں گو دس برس سے سُنتا ہوں۔مگر کوئی دلچسپی نہیں اس لئے مجھے معلوم نہیں۔دوسرا جو پاس بیٹھا تھا۔جب اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ وعلیٰ ہذالقیاس! مجھے خوشی بھی ہوئی اور رنج بھی ہوا۔خوشی اس لئے کہ بہت سی مخلوق ایسی بھی ہوتی ہے جواوریَسْمَعُوْنَ وَلَا یَسْمَعُوْنَ کی مصداق ہے۔غرض بعض تو ایسے ہیں جو سن کر بھی نہیں سنتے اور بعض سامعین ایسے ہیں کہ انہیں مجلسِ وعظ محض کسی کی دوستی یا ذاتی غرض لاتی ہے۔بعض نکتہ چینی کے لئے جاتے ہیں۔انکا خیال واعظ کی زبان کی طرف رہتا ہے۔پس جونہی کوئی انگریزی یا سنسکرت یا عرب لفظ اس کے مونہہ سے نکل گیا تو یہ مسکرائے۔پس ان کے سننے کا ماحصل یہی ہے کہ وہ گھر میں آ کر واعظ کی نقل لگایا کریں۔پھر ایک مشکل ہے وہ یہ کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔واعظ ایک بات کتاب اﷲ سے پیش کرتا ہے۔اب اگر سننے والے میں بھی وہی عیب ہے جو اس واعظ نے بتایا تو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو سنا سنا کر یہ باتیں کرتا ہے۔اور گویا مجھے طعنے دے رہا ہے۔حالانکہ واعظ کے وہم میں بھی یہ عین کو۔فطرت کا خالق چونکہ اس بھید کو سمجھتا ہے اس لئے اس نے فرمایا۔(البقرۃ:۲۷) (بدر ۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحہ۹) ۲۰۵۔ : اس سے ظاہر ہے کہ یہاں مومن مخاطب نہیں ( کیونکہ ان کیلئے وَ رَحْمَتُہٗ فرماچکا ہے۔مگر لوگ ہیں کہ اَلْحَمْد امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا جھگڑا لے بیٹھتے ہیں۔اتنا نہیں سمجھتے کہ یہاں