حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 231

۱۴۸۔  : یہ ضروری نہیں کہ منہ سے تکذیبِ آخرت کی جائے بلکہ کئی ہیں جو اپنے اعمال سے ثابت کرتے ہیں کہ گویا مرنا ہی نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۴۹۔  بچّہ میں طمع۔حبِّ غیر اﷲ۔غضب۔شہوت پہلے آ جاتی ہے اور قوّتِ ممّیزہ، انبیاء کی تعلیم بعد میں۔یہ انسان کے لئے بڑی مشکل ہے۔پھر رسم و عادت و صحبت کا اثرہے۔اس لئے خدا کی بات سمجھنے کیلئے فضلِ الہٰی درکار ہے اور بڑے مجاہدہ کی ضرورت۔فرعون جس کا تاج بھی گئو مُکُھی تھا اس کی قوم کے بد اثر سے بنی اسرائیل بھی نہ بچے۔اسی لئے ان میں گاؤ پرستی کا خیال رہا۔: خود اپنے زیوروں سے۔: آجکل کی صنّاعی کے لحاظ سے یہ قابلِ تعجب امر نہیں۔: برہمو۔نیچری۔فلاسفرانہ طبیعت کے لوگ بلکہ عام علماء غور کری۔یہاں معبودیت کی تردید اسی دلیل سے کی ہے کہ  پس وہ خدا کیونکر معبود ہو جو کلام نہیں کرتا۔