حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 226

میں نے بارہا سنایا ہے کہ مجرموں کی گرفتاری کا جناب الہٰی میں ایک وقت ہوتا ہے۔اِبّنِ لَیْلیٰ کی کچہری میں ایک شخص کو سزا دی گئی۔اُس نے کہا یہ میرا پہلا جُرم تھا۔سزا ہلکی دینی چاہیئے تھی۔آپ نے سزا بڑھا دی۔وجہ یہ بتائی کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔کیونکہ اگر یہ پہلی دفعہ کرتا تو پکڑا کیوں جاتا۔خدا نے خود فرمایا ہے۔۔وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (شورٰی:۳۱) : فرعون کی گرفتاری کا وقت آ گیا۔: معلوم ہوا کہ قحط سالی اور کمی پیداوار اس لئے ہوتی ہے۔کہ لوگ ذکرِ الہٰی میں مشغول ہوں۔خدا کی قدرتوں سے لوگ ایسے غافل ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ امریکہ میں ایسی کَل نکلی ہے جس سے درخت چلتے ہیں۔پتھر بولتے ہیں تو وہ مان لیتے ہیں مگر انبیاء کی نسبت ایسی باتیں سُن کر صاف انکار کر دیتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۳۲۔  : ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہود نے کہا۔مُذْ اتَانَا غَلَّتْ سَعَارُنَا وَ قَلَّتْ انمْطَارُنَا۔طَائِرٌ: حظّ۔حصّہ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۳۳،۱۳۴۔