حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 223

ان کی رسّیاں اور سونٹے قوت متخیلہ کو چلتے معلوم ہوتے تھے اور ایک جگہ فرمایا ہے اور ان ہتھکنڈے بازوں نے لوگوں کی آنکھوں کو دھوکا دیا اور انہیں ڈرانے کی کوشش کی اور بڑا دھوکہ کیا۔اب ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ ساحروں کے ڈنڈے اور رسّے واقعی سانپ بن گئے تھے۔خدا کی کتاب صرف یہ کہتی ہے کہ ان کے رسّے اور ڈنڈے ان کے واہموں اور تخیّلوں کو چلتے نظر آئے۔اور ساحروں نے عام لوگوں کی آنکھوں کو دھوکے میں ڈالا اور ڈرانا چاہا اور بڑا دھوکہ دیا۔یہ نظارہ قانونِ قدرت اور سائنس کے نزدیک ایسا واقعی اور صاف ہے کہ بڑی تشریح کی بھی ضرورت نہیں … جس لفظ کا ترجمہ تم نے ’’ سانپ بن گئی تھی اور کھا گئی‘‘ کیا ہے۔وہ لفظ ہے … اس میںاور کے معنی پر غور کرنی چاہیئے مجرّد ہے۔قاموس اللغتہ میں ہے۔لَقِفنہٗ کُسَمِعن لَقْفًا وَ لَقْفَانًا مُحَرَّکَۃٌ:تَنَاونلَہٗ بِسُرْعَۃٍ اس کا ترجمہ ہوا کسی چیز کو جلدی سے پکڑلینا۔یَأْ فِکُوْنَ بھی مجرّد ہے۔اَفَکَ کَضَرَبَ وَ عَلِمَ اِفْکًا کَذِبَ۔ترجمہ۔جھُوٹ بولا۔جھوٹی کارروائی کی اور سارے جملہ کا ترجمہ ہے کہ وہ انکی جھوٹی کارروائی کو جلدی سے پکڑ لیتا یعنی ان کا تانا بانا ادھیڑ دیتا ہے۔… سائنس دانوں اور فلاسفر انِ یورپ کا مذہب اختیار کرو۔مگر یاد رکھو تمہیں وہاں سے بھی دھتکار ہی ملے گی۔کیونکہ وہاں بھی پہلے مسمریزم نے ان معجزات کی حقانیت کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد اسپر چولزم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام صداقتیں ہیں جن کا ذکر انبیاء و رسل کی پاک کتابوں میں ہے اور جن کے دکھانے والے انبیاء و رسل کے صادق اتباع ہمیشہ اور اب بھی موجود ہیں۔ساحروں کے سحر یعنی دھوکے بازوں کے ڈھکوسلے جہاں غیر واقعی طور پر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں وہاں بڑے مرتاض جوگی جنّ اور ان سب سے برتر جنابِ الہٰی سے مؤید و منصور قوم انبیاء و رسل اور ان کے مخلص اتباع کی حقیقت بھر ے آیات و معجزات دھوکے بازوں کے جھوٹ اور افتراء کو تباہ کر کے واقعات کا اظہار دنیا پر کر دیتے ہیں۔مگر تم لوگ جو دنیا پرست ہو۔اور جن کو کھانے،پینے۔پہننے اور دیگر اغراضِ خسیسہ کے سوا اور کوئی مطلوب و مقصود نہیں۔اس صداقت پر کیونکر پہنچ سکتے ہیں۔ایک نہایت لطیف اور ضروری نکتہ: مَیں نے اس مضمون کو قبل از نماز عشاء حضرت امام ہمام خلیفۃ اﷲ۔مسیح موعود علیہ السّلام کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے فرمایا۔ان اعتراضوں کی اصل ہے معجزات اور خوارق کا انکار۔لوگ اسی ایک مدّ میں ان تمام ہزاروں معجزات کو شامل کرتے ہیں جو ہمارے