حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 222
میں ایمانی رنگ میں تُو بڑھیو ںکے ایمان کی طرح بلا دلیل مان لیتا ہوں مگر خصم کے مقابلہ میں قول موجّہ کی ضرورت ہے۔قرآن نے حضرت نبی کریمؐ کو حضرت موسٰیؑ کا مثیل (مزمل:۱۶)(احقاف:۱۱)فرمایا ہے۔پس عصا کے سانپ بن جانے کے بار بار ذکر میں حکمت ہے۔اِنَّ الْاِسْلَامَ لَیَأْ رَزَ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ کُمَاتَأْ رَزُ الْحَیَّۃُ اِلٰی جُحْرھایہ اسلام مدینہ طیّبہ میں اس طرح جمع ہو گا جس طرح سانپ اپنے بِل میں۔پھر مدینہ کیلئے فرمایا ہے۔مجھے ایک شہر دکھلایا گیا۔تَاکُلُ الْقُرٰیایک طرف اسلام کو دشمن کے ہلاک کرنے کیلئے سانپ فرمایا ہے۔دوسری طرف مدینہ کو سانپ کی جگہ۔پھر ساحر کے ساتھ علیم کا لفظ موسٰیؑ کیلئے آیا ہے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی ساحر کہا گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساحر کی علیم سے تفسیر فرمائی ہے۔حدیث میں آیا ہے۔اَلسَّاحِرُ۔اَلْمَاھبرُ الَسِْحْرُ:کُلَّمَآَدَقَّ وَلَطُفَ مَاّخَذُہٗ۔جس کا لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے۔اسے ساحر کہہ دیتے ہیں موسٰیؑ نے جو کچھ پیش کیا وہ بے عیب تھا۔پس مخالفین نے جو کچھ پیس کیا اس کے سامنے وہ کچھ بھی نہ تھا تَلْقَفُ مَایَاْفِکُوْنَ۔: انبیاء پہلے حملہ نہیں کرتے۔: یہ ساحروں کا ادب ہے۔جس نے انہیں مومن بنایا۔حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ۔دوسرا نکتہ صوفیاء نے یہ لکھا ہے کہ مومن و کافر میں کیا فرق ہے؟ ایک وقت ایسی کمزوری کہ فتحیاب ہو کر پھر بھی مزدوری کے طالب ہیں۔انعام بھی نہیں کہا۔دوسرے وقت یہ حالت کہ اسی فرعون کو ڈانٹ دیا اور اس کی کچھ حقیقت نہ سمجھی۔اس کی د ھمکیوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔بلکہ مال چھوڑ کر جان کی بھی پرواہ نہ رہی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ایک مکذّب آریہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ حضرت موسٰیؑ کی لاٹھی کو خدا نے سانپ بنا دیا ساحروں کے ڈنڈوں کو جو سانپ بن گئے تھے۔کئی سومن وزن موسٰی کی لاٹھی سب کو کھا گئی۔حضرت موسٰیؑ نے اپنے سانپ کو جو پکڑاپھر لاٹھی کی لاٹھی۔آپ نے تحریر فرمایا۔قرآن کریم میں تو یوں آیا ہے۔(طٰہٰ:۶۷)(اعراف:۱۱۷)