حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 211 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 211

: زمانہ بعثتِ نبوت بہار کا وقت ہوتا ہے۔جو کچھ کسی کے اندر ہو۔باہر نکلتا ہے۔: دقّت سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۶۰۔ :یہ تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔: اس قوم میں شفقت علیٰ خلق اﷲ کُوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے حصرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم طائف گئے۔ایک نمبردار سے کہا۔میں چند باتیں پہنچانی چاہتا ہوں۔اس نے کہا اکیلا کیوں سنوں سب کو بلاتا ہوں۔اس کے بعد وہ چند بدمعاش اکٹھے کر لایا جنہوں نے آپؐ کو دُکھ دیا۔آپؐ سر سے پَیر تک لہو لہان ہو گئے۔آپؐ فرماتے ہیں۔بارہ کوس تک مجھے پتہ نہیں لگا کہ میں کدھر جاتا ہوں۔ایک فرشتہ نے کہا کہ حکم ہو تو طائف کو تباہ کر دیں۔فرمایا یہ قوم نادان ہے۔اگر مجھے رسول اﷲ جانتے تو ایس نہ کرتے امید ہے۔یہ نہیں تو انکی اولاد مسلمان ہو جائے گی۔زید بن حارثہ ساتھ تھے وہ کہتے ہیں طائف والوں نے بارہ کوس کے بعد پیچھا چھوڑا۔آگے باغ تھا۔باوجود مخالفت کے انہوں نے اپنے نوکر کے ہاتھ انگور بھیجے جب اس نوکر نے انگور اآپ کے آگے رکھے۔تو آپؐ نے اﷲ کا نام لیکر انگور اٹھایا۔جس پر اس نے تعجب کیا آپؐ نے اسے وعظ شروع کیا۔اس نے کہا ایک یوناہ نبی گزرا ہے ہمارے ملک میں وہ ایسی ہی باتیں کہا کرتا تھا آپؐ نے فرمایا۔وہ میرا بھائی تھا۔اس پر وہ مسلمان ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء)