حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 209

۔پچاس ہزار برس تک کے معنوں میں آیا ہے۔مطلق وقت کے معنوں میں بھی جتنے میں وہ واقعہ ہو گیا۔جیسے یومِ حُنین۔(ابراہیم:۶)  کے معنی ہیں ٹھیک۔یعنی اس کے تحت سلطنت میں کوئی نقص نہیں۔پھر تمام کائنات کا وراء الوراء اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔اس لئے اس کے معنی عَلیٰ بھی درست ہیں۔بعض نے کہا ہے معنے ظاہر ہیں۔مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں۔اسکی مثال سنئے۔جیسے بیٹھنا۔اب جیسا جیسا کوئی موصوف ہو ویسے ویسے معنی ہوں گے۔۱۔مثلاً میں بیٹھ گیا ۲۔دیوار بیٹھ گئی ۳۔ساہوکار تھا اب بیٹھ گیا۔۴۔ہندوستان کے تخت پر یورپ کا بادشاہ بیٹھا ہے۔۵۔فلاں شخص کی محبّت یا اس کا کلام یا بُغض فلاں کے دل میں بیٹھ گیا۔یہ سب ’’بیٹھے‘‘ الگ الگ معنے رکھتے ہیں۔پس اسی طرح  تو عام ہے مگر اﷲ کااِسْتَوَاء ایک خاص نشان رکھتا ہے۔وہ( شورٰی:۱۲) پسبھیہے۔خدا کی ہر صفت کا یہی حال ہے۔: لگاتار۔مثلاً یہاں رات آتی ہے تو دوسرے بالمقابل بلاد میں صبح کی تیاری ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ ظلمت کے بعد نور۔فترت کے بعد نبوّت کا وقت آتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : سُمٰوٰتکے ساتھ ایّام کا ذکر نہیں البتہ ارض کیلئے چھ وقتوں کا ذکر کیا اور یہ روز کا مشاہدہ ہے کہ چھ وقتوں میں زمین بنتی ہے۔فصل پکتی ہے۔: بے عیب۔تختِ حکومت پر براجمان ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۴) : سن لو۔اُسی کا کام ہے بنانا اور حکم فرمانا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۳۱) ۵۶۔ : تمام صفات کو بیان فرما کر دعا کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اس زمانہ میں تمہارے لئے دعا کا میدان وسیع اور خالی ہے۔۱۔بعض خدا کے منکر ہیں ۲۔بعض خدا کو مانتے ہیں مگر اس کے مُتصِّرف ہونے کے قائل نہیں۔۳۔بعض دعا کے قائل ہیں مگر اسباب پرستی میں منہمک ہیں۔پس تم کامل امید۔کامل یقین۔کامل مجادہ سے دعا میں لگے ر