حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 18

(علیحدہ علیحدہ ہے) تین دن تک مولوی صاحب بیمار بن کر پڑے رہے آخر جب رُخصت کا وقت آیا تو پھر چند لمحہ کیلئے اس لباس نے کام دیا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) ۳۰۔   : دھوکہ میں تراضی نہیں ہو سکتی۔: اُنفس۔اہل ملّت۔جنس انسانی۔اکل بالباطل بھی قتل نفس ہے۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۴۸) ۳۲۔  : ایک غلطی سے دوسری۔دوسری سے تیسری پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح پھر گناہ کی انتہاء ہو جاتی ہے۔اس انتہاء کو گناہِ کبیرہ کہتے ہیں۔:اگر کوئی درمیان میں اس بدی سے علیحدہ ہو جاوے تو ہم اسے عزّت کے مقام پر پہنچائیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر:قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) : ہر نافرمانی کا ابتداء صغیرہ اور انتہاء کبیرہ کہلاتا ہے۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۸) جن کبائر گناہوں پر ابدی سزا کا ہونا بیان ہوا۔وہ بیان بالکل راست ہے وہ کبائر ایسے ہیں کہ ابدی سزا میں پھنسائیں۔اِلّا خدا پر ایمان لاتا اور اسکی توحید پر ثابت قدم ہونا اور جس بلائے بد شرک