حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 19
میں مُشرک پھنس کر تباہ ہوئے اُس بَلا سے الگ ہو جانا۔بلکہ صرف رحم بھی ایسے فضل کے لائق کر دیتا ہے کہ بڑے گناہ کے مرتکب کو وہ فضل ابدی جہنم سے نکال لاتا ہے اور اس ابدی سزا کے موجب پر یہ فضل نجات کا موجب غالب آ جاتا ہے مثلاً ایک شخص نے تھوڑی سی گرم چیز کھا لی۔وہ گرم چیز ضرور گرمی کریگی۔اِلّا اگر اس کے ساتھ بہت سی سَرد چیز کھائی گئی۔تو ظاہر ہے کہ اس سرد کی سردی اُس گرم کی گرمی کو باطل کر دیگی اور دوسری قسم کی نجات اُن نیک اعمال کی کثرت سے ہو گی جو سچّے ایمان کا ثمرہ ہیں۔خدا فضل و کرم سے حاصل ہو گی۔(فصل الخطاب (ایڈیشن دوم) جلد دوم صفحہ۱۳۸۔۱۳۹) ۳۳۔ :ایسی آرزوئیں جن کا نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔نہ کرو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۴۸) : اﷲ تعالیٰ کچھ تو انسان کو بلا معاوضہ دیتا ہے جو صفتِ رحمانی سے ملتا ہے۔اور کچھ بدلہ میں جو صفت رحیمی کا عطیہ ہے۔حُسن و جمال۔رنگت۔جسم۔طاقت وغیرہ میں۔تفاضل میں۔تفاضل انسان کی طاقت سے باہر ہے۔پس اس میں دخل نہ دو۔یہ دخل دینا تمنّی کہلاتا ہے۔:انسان کیلئے کچھ کرنے کے کام ہیں۔ان کاموں میں اﷲ کا فضل مانگو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) : مردوں کو حصّہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصّہ ہے اپنی کمائی سے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۴۶)