حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 192 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 192

: جب وہ ہدایت پر جبر نہیں کرتا۔تو برائی پر کیوں جبر کرنے لگا۔اگر ہم مجبور کرتے تو بہر حال نیک بات پر کرتے۔کیونکہ ہم قدّوس ہیں۔نیکی پسند کرتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳) ۱۵۲۔   دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں اوّلؔ جو دوسرے لوگوں کے تجارب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ن کی باتوں کو مانتے ہیں۔دومؔ وہ جو اپنے تجربے اور اپنی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔عقل مندی کا کام یہ ہے کہ جو صداقتیں دنیا میں تسلیم ہوئی ہیں۔ان کو مان لیں۔پس انبیاء علیہم السلام کی کتابوں سے ( جو صداقتوں اور تجربوں کو مجموعہ ہیں) ضرور فائدہ اٹھاؤ۔: شرک چار قسم کا ہے۔۱۔شرک فی الذات ۲۔شرک فی الصفات ۳۔شرک فی الفعال ۴۔شرک فی التعظیم۔یہ چوتھا شرک عام ہے۔: ۱۔ایسی دوا کھانا کہ حمل گر جائے ۲۔دُختر کشی ۳۔اولاد کی پرواہ نہ کرنا۔: زنا۔چوری۔ڈاکہ۔گالیاں۔: کینہ۔کپٹ۔بُغض (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) شرک عربی زبان میں کہتے ہیں سانجھ کرنے کو۔کسی کو کسی کے ساتھ ملانے کو۔تو مطلب یہ ہو کہ اﷲ کے ساتھ کسی کو جوڑی نہ بناؤ۔ایک مقام پر فرمایا ہے۔ثُمَّ کَفَرُوْا (الانعام:ا۱۵) کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کے برابر اس کی ذات میں کسی دوسرے کو بھی مانتا ہو۔یہ شرک میں