حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 182

: ہم کو بھی الہام ہو۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمیندار مال گزاری وصول کرنیوالے کو کہے۔اگر بادشاہ نے یہ روپیہ لینا ہے تو وہ خود میرے گھر کیوں نہیں آتا؟ ۱۔اﷲ تعالیٰ دلوں کی پہچان کا ذکر کرتا ہے۔۲۔بعض صحبتیں۔مکان۔دوست ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے تعلق بدی کی طر ف رغبت دلاتا ہے ۳۔نبی کریمؐ صلی اﷲ علیہ وسلم مجلس میں ستّر بار سے زیادہ استغفار فرماتے تھے تاکہ قلب پر رَیْن ۱؎ تک بھی نہ آئے۔۴۔استغفار بہت ضروری ہے۔ورنہ رین ؔؔپڑتے پڑتے ختم۔قفل تک نوبت پہنچتی ہے۔۵۔جو لوگ ہدایت پانے کے قابل ہوتے ہیں وہ حق بات کے ماننے کیلئے ہر وقت بشرح صدر تیار ہوتے ہیں جیسے ابراہیمؑ نے اَسْلِمْ کے جواب میںاَسْلَمْتُ (البقرہ:۱۳۲) کہا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : جو شخص خلافت کیلئے منتخب ہوتا ہے اس سے بڑھ کر دوسرا اس منصب کے سزاوار ہرگز نہیں ہوتا۔کیسی آسان بات تھی۔کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہے مصلح مقر کر دے پھر جن لوگوں نے خدا کے ان مامور کردہ منتخب بندوں سے تعلق پیدا کیا۔انہوں نے دیکھ لیا ۱؎ زنگ۔مَیْل۔(مرتّب) کہ ان کی پاک صُحبت میں ایک پاک تبدیلی اندر ہی اندر شروع ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے سات اپنے تعلقات اکو مضبوط اور مستحکم کرنے کی آرزو پیدا ہونے لگتی ہے۔(الحکم ۱۷؍اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ۳) : اب پہنچے گی گنہگاروں کو ذلّت اﷲ کے یہاں اور عذابِ سخت بدلہ حیلہ بنانے کے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۵۷) ۱۲۶تا۱۲۸۔